سوشل میڈیا اور حقوق کے گروپوں پر ویڈیوز کے مطابق، لگاتار تیسرے ہفتے سے، ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سیکورٹی فورسز کے آنسو گیس، لاٹھیوں اور بعض صورتوں میں براہ راست گولہ بارود کے استعمال کے باوجود احتجاج تھم نہیں سکا ہے۔
اسران میں 16 ستمبر کو خاتون مہسا کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے تیسرے ہفتے میں بھی تھم نہ سکے۔ ایرانی نوجوانوں کی ہلاکتیں بڑھتی جارہی ہیں ۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور بعص صورتوں میں براہ راست گولہ بارود کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کا احتجاج ختم نہیں ہو رہا۔
تعليق الدراسة في جامعة شريف بطهران بعد أعمال عنف ضد المحتجين#العربية pic.twitter.com/jzEHU4tCvD
— العربية (@AlArabiya) October 3, 2022
ایران انٹرنیشنل نے ٹیلی گرام پر فیڈریشن آف کنٹری یونیورسٹی کونسلز کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی سیکورٹی فورسز نے اتوار کی شام شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 30 سے 40 طلباء کو گرفتار کرلیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں اور سویلین کپڑوں میں مسلح افراد نے یونیورسٹی کی پارکنگ پر حملہ کیا اور طلبہ کو زدوکوب کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق کئی پروفیسروں کو بھی زدو کوب کیا۔
اتوار کے روز شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے طلبہ نے بڑے مظاہرے کئے تھے۔
صور متداولة لاعتقال الشرطة الإيرانية طلاب جامعة شريف في طهران قبل قليل
— العربية (@AlArabiya) October 2, 2022
#العربية pic.twitter.com/W0dNvfbYpr
سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق سویلین لباس میں ملبوس مسلح افراد نے شریف یونیورسٹی پر حملہ کیا اور طلبہ کو گولیاں بھی ماریں۔ میڈیا رپورٹس نے بتایا کہ شریف یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جارہی تھی ۔ دوسری طرف طلبہ ’’ بم بے غیرت ہو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ طلبہ نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ہماری آؤٹنگ کو احتجاج مت کہو، یہ ایک انقلاب بن گیا ہے۔
مغربی ایران کے صوبہ کرمانشاہ میں رازی یونیورسٹی کے طللبہ نے بھی مظاہرے کئے ہیں۔ اس مظاہرے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کہ رہے ہیں ’’ یہ نہ سوچیں احتجاج ختم ہوجائے گا۔ ہماری تاریخ ہر روز کی ہے‘‘
فيديو متداول يكشف العنف الذي يتعرض له المحتجون في #إيران على أيدي القوات الأمنية#العربية pic.twitter.com/PW07UCCCuZ
— العربية (@AlArabiya) October 2, 2022
ایرانی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہت سے اہلکاروں کو غیر ملکی دشمنوں کے حمایت یافتہ فسادیوں اور غنڈوں نے قتل کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت 41 افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے 31 صوبوں میں پھیلنے مظاہروں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔
دوسری طرف اتوار کو ایرانی قانون سازوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران "پولیس کا شکریہ" کا نعرہ بھی لگا دیا۔
گزشتہ دنوں میں سب سے زیادہ طاقتور زاہدان میں دیکھے گئے جہاں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں شدید تصادم ہوا۔ مظاہرین نے ایرانی پاسداران انقلاب کے 5 اہلکاروں کو ابدی نیند سلا دیا۔