ایران میں غصہ سے بھری ایک اور رات بیت گئی،متعدد طلبہ گرفتار، ایک یونیورسٹی کا محاصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوشل میڈیا اور حقوق کے گروپوں پر ویڈیوز کے مطابق، لگاتار تیسرے ہفتے سے، ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سیکورٹی فورسز کے آنسو گیس، لاٹھیوں اور بعض صورتوں میں براہ راست گولہ بارود کے استعمال کے باوجود احتجاج تھم نہیں سکا ہے۔

اسران میں 16 ستمبر کو خاتون مہسا کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے تیسرے ہفتے میں بھی تھم نہ سکے۔ ایرانی نوجوانوں کی ہلاکتیں بڑھتی جارہی ہیں ۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور بعص صورتوں میں براہ راست گولہ بارود کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کا احتجاج ختم نہیں ہو رہا۔

ایران انٹرنیشنل نے ٹیلی گرام پر فیڈریشن آف کنٹری یونیورسٹی کونسلز کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی سیکورٹی فورسز نے اتوار کی شام شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 30 سے 40 طلباء کو گرفتار کرلیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں اور سویلین کپڑوں میں مسلح افراد نے یونیورسٹی کی پارکنگ پر حملہ کیا اور طلبہ کو زدوکوب کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق کئی پروفیسروں کو بھی زدو کوب کیا۔

اتوار کے روز شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے طلبہ نے بڑے مظاہرے کئے تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق سویلین لباس میں ملبوس مسلح افراد نے شریف یونیورسٹی پر حملہ کیا اور طلبہ کو گولیاں بھی ماریں۔ میڈیا رپورٹس نے بتایا کہ شریف یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جارہی تھی ۔ دوسری طرف طلبہ ’’ بم بے غیرت ہو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ طلبہ نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ہماری آؤٹنگ کو احتجاج مت کہو، یہ ایک انقلاب بن گیا ہے۔

مغربی ایران کے صوبہ کرمانشاہ میں رازی یونیورسٹی کے طللبہ نے بھی مظاہرے کئے ہیں۔ اس مظاہرے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کہ رہے ہیں ’’ یہ نہ سوچیں احتجاج ختم ہوجائے گا۔ ہماری تاریخ ہر روز کی ہے‘‘

ایرانی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہت سے اہلکاروں کو غیر ملکی دشمنوں کے حمایت یافتہ فسادیوں اور غنڈوں نے قتل کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت 41 افراد ہلاک ہوئے۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے 31 صوبوں میں پھیلنے مظاہروں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔

دوسری طرف اتوار کو ایرانی قانون سازوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران "پولیس کا شکریہ" کا نعرہ بھی لگا دیا۔

گزشتہ دنوں میں سب سے زیادہ طاقتور زاہدان میں دیکھے گئے جہاں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں شدید تصادم ہوا۔ مظاہرین نے ایرانی پاسداران انقلاب کے 5 اہلکاروں کو ابدی نیند سلا دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں