’اسکول میں بچے نے سکہ نگل لیا تو اپنا بیٹا سمجھ کراس کی جان بچائی‘
سکہ نگلنے والے بچے کی زندگی بچانے والی سعودی معلمہ غادہ کی کہانی
سعودی عرب کے علاقے تبوک کے ایک اسکول میں استانی نے ایک بچے کی جانب سے دھاتی سکہ نگل لینے کے بعد اس کی جان بچانے میں مدد کی جس پر اسے سرکاری سطح پر اعزازو اکرام سے نوازا گیا ہے۔
معلمہ غادہ البلوی نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کو اس واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دھاتی سکہ نگل لینے سے بچے کا دم گھٹ رہا تھا اور اس کی زندگی خطرے میں تھی۔ صورتحال بہت نازک تھی، کیونکہ اس کی زندگی بچانے کے لیے چند منٹ ہی بچے تھے۔ بچوں کا خیال تھا کہ ان کا دوست ’ھتان‘اب زندہ نہیں رہا ہے۔ بچہ سکول کینٹین کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے دھاتی ریال منہ میں ڈالا جسے اس نے نگل لیا۔ وہ چل رہا تھا مگر ایسے لگتا تھا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے۔اس نے اپنی گردن پکڑ رکھی تھی اور چہرہ زرد ہوچکا تھا۔ وہ بے ہوش ہوکرگرنے ہی والا تھا۔
استانی غادہ البلوی نےبتایا کہ انہوں نے ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے جو کچھ سیکھا تھا اس کی روشنی میں اپنی پوری صلاحیت جمع کرکے بچے کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ بچہ بے ہوش ہوا تو میری مشکل بھی بڑھ گئی۔ میں نے اسے اپنا بچہ سمجھ کراس کی جان بچانے کی کوشش کی۔ میں اس کی پسلی کے پنجرے کو دبایا تو اس کے منہ سے سکہ باہر نکل آیا۔ اس سے اس کی سانس کی نالی کھل گئی۔ اس وقت ہم نے اس کے گھر والوں سے رابطہ کیا اور انہیں سادہ انداز میں واقعہ سے آگاہ کیا۔
البلوی نے خواتین کی تعلیم کے عملے کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینے اور بچوں کو خاندان اور اسکول کے ذریعے تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وہ بچوں کو ایسی چیزیں ہاتھوں میں نہ دیں جن سےان کی زندگی خطرے میں پڑ جائے۔
محکمہ تعلیم کی طرف سے تکریم
تبوک کے علاقے میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ایجوکیشن نے تبوک کے پچیسویں پرائمری اسکول میں ایک طالب علم کی جان بچانے پر انتظامی معاون غادہ البلوی کو اعزاز و اکرام سے نوازا۔ انتظامیہ نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر اس اعزاز کی تصویر شائع کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ کو اسکولوں میں ایسے معزز ماڈلز پر فخر ہے۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر سماجی کارکنوں نے بھی معلمہ البلوی کے کردار کو سراہا اور انہوں نے بھی معلمات کے لیے ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔