ایران داعش یا کسی اور کو اپنی سلامتی سے کھیلنے کیا اجازت نہیں دے گا:ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران شیراز میں زیارت پر داعش کے حملے کے بعد بیٹھا نہیں رہے گا ، اس کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔ اس امر کا اظہار ایران کے وزیرخارجہ نے جمعرات کے روز کیا ہے۔ شیراز کے نزدیک شیعہ زیارت پر داعش کے حملے میں 15 افراد مارے گئے تھے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

داعش نے شیعہ زیارت پر فائرنگ کی اس کارروائی کی بعد ازاں ذمہ داری قبول کر لی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کارروائی میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شاہ چراغ کی زیارت پر فائرنگ کرنے والے فرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کا تعلق تکفیری دہشت گرد گروپ سے ہے۔ خیال رہے ایران میں عام طور پر داعش کے لیے تکفیری گروپ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ' یقینا ہم اس کی اجازت نہیں دیں گےکہ کوئی ایران کی سلامتی سے کھیلنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دے سکتے ، وہ دہشت گردی کی آڑ میں ہو یا انسانی حقوق کے لبادے میں سازش ہو۔'

ایران کے سرکاری میڈیا کے توسط سے سامنے آنے والے وزیر خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ' ہمارے پاس قابل اعتماد ذرائع سے اطلاعات ہیں کہ دشمن ایران کو کثیر الجہت انداز میں غیر محفوظ بنانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ ایران ایسے دہشت گردوں کے بارے میں بہت واضح ہے۔ '

یاد رہے داعش پہلے بھی ایران کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ 2017 میں داعش نے دو ضرواں حملے کے تھے۔ جن کا ہدف ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کا مزار تھا۔ اب اس کے تازہ حملے سے بھی ایران پر دباو بڑھے گا۔

کیونکہ بائیس سالہ کرد ایرانی مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہونے والی ہلاکت کے بعد ایران میں بدترین مظاہرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اب تک اڑھائی سو کے قریب افراد ان مظاہروں میں مارے جا چکے ہیں۔ ہزاروں شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں