اردن: عسکریت پسندوں کے خلاف چھاپامارکارروائی میں تین پولیس اہلکارہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے جنوبی شہرمعان میں حالیہ فسادات کے دوران میں ایک افسر کی ہلاکت میں ملوّث مبیّنہ عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پرپولیس نے چھاپامارکارروائی کی ہے۔اس دوران میں جھڑپ میں تین پولیس اہلکارہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ صحرائی شہرکے قریب آپریشن میں ایک مشتبہ شخص کوہلاک کردیا گیاہے اورنودیگرکو گرفتارکیا گیا ہے۔پولیس نے ان کے قبضے سے اسلحہ کی بڑی کھیپ برآمد کی ہے۔

پولیس نے بیان میں ان عسکریت پسندوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ تینوں افسرتکفیری نظریات کے حامل دہشت گردسلیپرسیل کے خلاف چھاپامار کارروائی میں شہید ہوئے ہیں۔یہ تکفیری گروپ مبیّنہ طورپرخود سے مختلف مذہبی نظریات کے حامل مسلمانوں پرمرتد ہونے کا الزام عاید کرتا ہے۔

اس واقعہ سے چارروز قبل ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف معان اوراردن کے متعدد جنوبی شہروں میں پُرتشدد واقعات پیش آئے تھے اور وہاں گذشتہ چندبرسوں کے بعد پہلی مرتبہ بدترین بدامنی دیکھی گئی تھی۔

جمعرات کی شام کواردن کے ایک سینیرپولیس اہلکار کو گولی مارکرہلاک کردیا گیا تھا اورسکیورٹی فورسز کی ہجوم کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔سکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اس بات کے شواہدموجود ہیں کہ پیرکے روزاس گروپ نے داعش کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے دھاوابولااور وہ ملک کوعدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے بدامنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

حکومت نے اس عزم کااظہارکیا ہے کہ وہ قانون شکنوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی اور ان لوگوں کے خلاف انسداد فسادپولیس کی مزید نفری تعینات کرے گی جو معاشی حالاتِ زندگی بہتربنانے کےنام پر پُرتشدد احتجاج کرتے ہیں۔

پولیس کاکہناہے کہ جھڑپوں میں 40 سے زیادہ سکیورٹی اہلکارزخمی ہوئے ہیں،مظاہرین نے توڑ پھوڑکی ہے،گاڑیوں کونقصان پہنچایا،ٹائر جلائے اور ہائی وے کو بند کردیا۔

اردنی حکام نے بدامنی میں ملوّث ہونے کے شُبے میں 44 افراد کوگرفتارکیا ہے اور 200 سے زیادہ مشتبہ افراد اس سلسلے میں پولیس کو مطلوب ہیں۔حالیہ دنوں میں بدامنی،تشدد کے واقعات اوردیگر حملوں نے اردن کو ہلاکررکھ دیا ہے حالانکہ یہ ملک سنہ2011ء کے بعد سے خطے میں ہونے والی بغاوتوں ،خانہ جنگیوں اور عسکریت پسندوں کے تشدد سے نسبتاً محفوظ رہاتھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں