اسرائیل کے دوسرے بڑے بنک نے رہائشی رہن پر شرح سود منجمد کر دی
فیصلے سے یہودی آبادکاروں کے وارے نیارے ہو گئے، زیادہ سے زیادہ ذاتی مکان بنا سکیں گے
اسرائیل کے ایک بڑے ہپوعلیم بنک میں نئی پالیسیوں کی روشنی میں اپنے ان کھاتہ داروں کو رہن کے معاملے میں رعایت دینے کا اعلان کیا ہے جو اسرائیل میں رہائش کے لیے بنکوں سے رہن کے معاملات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور مالی اعتبار سے مستحکم نہیں ہیں۔
اس سلسلے میں بنک نے اسرائیل میں رہائش اختیار کرنے والے افراد کے رہن کے سلسلہ میں شرح سود کو منجمد کر دیا ہے۔ یہ اسرائیل کے نئے نافذ ہونے والی شرح سود کے اثرات سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ان کم وسائل رکھنے والے افراد کو زیادہ شرح سے سود نہ دینا پڑے۔
نئی حکومت کی یہودی بستیوں اور آباد کارں کے لیے سوچ کے حوالے سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ہزاروں یہودی آباد کو نئی شرح سود کی بنیاد پر بنکوں سے رہن کے معاملات کرنے سے بچنا ممکن ہو گیا ہے۔
واضح رہے اسرائیل کے سرکاری بنک نے نئے اعلان کے تحت شرح سود کی شرح 0،1 سے یک لخت 3،25 ہو گئی ہے۔ بنک کے اس فیصلے کی وجہ سے یہودی آباد کاروں کو 14 سال کے عرصے میں رہن کے کھاتے میں بنکوں سب سے زیادہ سود ادا کرنا پڑتا۔
اس پس منظر میں ہپو علیم بنک نے اعلان کیا ہے بنکوں کے اپنی رہائش کے حوالے سے رہن سے منلک افراد کو نئی شرح سود کے مطابق ادائیگیاں نہیں کرنی ہوں گی۔ بنک کے چیف ایگزیکٹیو دوف کوٹلر کے مطابق ان کے بنک سے رہن کی ڈیل سے جڑے 10000 افراد کو فائدہ ہو گا۔
ماہ نومبر کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی کے سربراہ موشت گفنی نے بنک آف اسرائیل کی شرح سود بڑھنے کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ غریب یہودی آباد کاروں پر اس کے اثرات ان کی رہائش کے امور پر نہ آنے دیے جائیں۔