عدالتی اصلاحات پر اسرائیلی سیاسی قیادت کے درمیان بات چیت کا ایک نیا دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل میں عدلیہ کے حوالے سے متنازع اصلاحات کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی محاذ آرائی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

توقع ہے کہ عدالتی ترامیم کے بحران کے حل کے لیے حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان اسرائیل میں آج بھی بات چیت جاری رہے گی۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دفتر نےحکمراں اتحاد کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں یش عتید ( فیوچر پارٹی) اور قومی اتحاد کے نمائندوں کو عدالتی ترامیم سے متعلق قانون سازی پر پہلا مذاکراتی اجلاس منعقد کرنے کے لیے طلب کیا۔ کل ہونے والا اجلاس اچھے ماحول میں ہوا۔

اسرائیلی پریس کے مطابق اٹارنی جنرل بنجمن نیتن یاہو کو قانون سازی کے مذاکرات میں لیکوڈ پارٹی کی نمائندگی کرنے سے روک دیا گیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی سیاسی صورت حال پر اپنے پہلے ردعمل میں نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل عدالتی محاذ آرائی کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جواب میں کہا کہ اسرائیل ایک آزاد ملک ہے جو اپنے فیصلے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے کرتا ہے۔

بائیڈن نے امید ظاہر کی تھی کہ نیتن یاہو عدالتی ترمیمی ایکٹ واپس لے لیں گے۔ امریکی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نیتن یاہو کو فی الحال وائٹ ہاؤس کے دورے کی کوئی دعوت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں