اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی میں 40 سال سے کم عمر افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"العربية" کے نامہ نگار نے جمعرات نماز فجر کے وقت القدس کے قدیمی شہر کی حدود میں اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہونے کی خبر دی ہے۔ یہ پولیس چالیس [40] برس سے کم عمر کے نمازیوں کو فجر ادا کرنے سے روک رہے ہیں۔

اسرائیلی قابض فوج نےبدھ کی رات مسلسل تیسرے روز مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر نمازیوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کرنے کی وحشیانہ کارروائی کی جس میں مزید متعدد نمازی زخمی اور گرفتار کر لیے گئے۔

یروشلم کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ درجنوں قابض فوجیوں نے بھاری ہتھیاروں سے لیس ہو کر مسجد اقصیٰ پر حملہ کر کے نمازیوں کو القبلی جائے نماز سے باہر نکال دیا۔ اس موقعے پر قابض فوج نے مسجد اقصیٰ میں اعتکاف کرنے والے روزہ داروں پر چڑھائی کر دی اور ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج اور پولیس نے مسجد القبلی کا محاصرہ کر کے وہاں پر نمازیوں کو داخلے سے روک دیا۔

فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس کا امدادی عملہ مسجد میں موجود ہے، مگر اسے اسرائیلی پولیس کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے۔

القبلی جائے مصلی کا محاصرہ

عینی شاہدین نے فلسطینی الشہاب نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ قابض فوج نے مسجد قبلی کی چھت پر چڑھ کر نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں مسجد اقصیٰ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے چڑھائی کی اور مسجد کے اندر عبادت کرنے والے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔

عینی شاہدین کی رپورٹ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے اتوار کے روز الاقصیٰ میں اعتکاف کرنے والوں کو فون کے ذریعے ٹیکسٹ پیغامات بھیجے اور انہیں وہاں سے نکل جانے کا کہا تھا۔ اس کے بعد قابض فوج مسلسل نمازیوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر وحشیانہ کارروائی کی جس کے نتیجے میں درجنوں نمازی زخمی اور سیکڑوں کو گرفتار کیا۔

سعودی عرب کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت

سعودی عرب نے بدھ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے، نمازیوں کو زخمی کرنے اور متعدد کو گرفتار کرنے کی مذمت کی ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیل کے ’صریحاً دھاوے‘ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

بیان کے مطابق: ’ایسا طرز عمل امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قبضے کو ختم کرنے اور مسٔلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل تک پہنچنے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت میں اس کے مضبوط موقف کی تصدیق کرتا ہے۔‘

یہ حملہ رمضان کے مقدس مہینے میں کیا گیا جو اسلام میں روحانیت اور عبادات کا اہم وقت ہے۔

وائٹ ہاؤس کا اظہار ’’تشویش‘‘

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اسے یروشیلم کی مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں ہونے والی جھڑپوں پر ’’شدید تشویش‘‘ ہے۔ امریکہ نے اسرائیل اور فلسطینی دونوں فریقوں پر صبر سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ’’مسلسل پرتشدد کارروائیوں پر ہمیں بہت زیادہ تشویش ہے۔ ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ صورت حال کو مزید بگاڑنے سے باز رہیں۔‘‘

’’اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے یہ بات پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے کہ وہ کشیدگی کا پارا نیچے لانے کے مل کر کام کریں اور ہوش کے ناخن لیں۔‘‘

مسجد اقصیٰ پر بدھ کے روز اسرائیلی فوج کی یلغار کی عالم اسلام کی طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، سلطنت عمان، کویت، قطر پاکستان اور دوسرے مسلمان اور عرب ممالک نے اسرائیلی فوجی کارروائی کو صہیونی فوج کی کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

بدھ کی صبح سے جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائی میں کم سے کم چار سو نمازیوں کو مسجد اقصیٰ سے گرفتار کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں