لبنان:حزب اللہ آئی ایم ایف کے عہدہ دار اَزعورکو صدرمنتخب ہونے سے روکنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے قریبی اتحادی رواں ہفتے اپنے سیاسی حریفوں کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کے ایک سینیر عہدہ دار کو لبنان کا صدر منتخب کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بھاری ہتھیاروں سے لیس حزب اللہ جہاد اَزعور کی صدارت کی خالی کرسی کوفائز ہونے کی کوشش کے خلاف اپنی سیاسی طاقت کو بروئے کار لارہی ہے جبکہ اس نے اپنے اتحادی امیدوار سلیمان فرنجیہ کے لیے مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

لبنان کی پارلیمان کے ارکان بدھ کو 12 ویں مرتبہ حزب اللہ کے اتحادی سیاست دان میشیل عون کے جانشین کے انتخاب کی کوشش کریں گے۔ان کی مدت گذشتہ سال اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی۔

حزب اللہ کے سیاسی مخالفین کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف کے مشرق اوسط کے ڈائریکٹر اَزعور کو منتخب کرنے کی کوشش ناکام ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس اتنی نشستیں ہیں کہ وہ دو تہائی کورم سے انکار کر سکتے ہیں۔حزب اللہ سے وابستہ ایک سینیر سیاست دان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’’ہم سب کے سامنے رکاوٹ ڈالیں گے‘‘۔

حزب اللہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تحریک اور اس کے اتحادی اَزعور کے انتخاب کو روکنے کے لیے اپنا آئینی حق استعمال کر رہے ہیں۔اس کش مکش نے صدر کے جلد انتخاب کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے لبنان 2019 کے بعد سے تباہ کن مالی بحران کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

لبنان میں اس وقت اقتدار کا مکمل خلا ہے۔وہاں نہ تو سربراہ مملکت ہے اور نہ ہی مکمل طور پر بااختیار کابینہ۔یہ ملک کی تاریخ کا بھی منفرد واقعہ ہے کہ کوئی منتخب یا مینڈیٹ کی حامل قانونی حکومت نہیں ہے۔

لبنان میں صدارت کاعہدہ ایک مارونی عیسائی کے لیے مخصوص ہے اور ملک کی دو سب سے بڑی مسیحی جماعتیں اَزعور کی حمایت میں ہیں، جبکہ شیعہ حزب اللہ اور اس کی اتحادی امل تحریک ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔حزب اللہ طویل عرصے سے لبنان کا سب سے مضبوط دھڑا رہی ہے اور وہ اپنی طاقت کو اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔اس میں 2020 میں بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کو دفن کرنے میں مدد کرنا بھی شامل ہے۔

لیکن پارلیمنٹ میں اس کا اثر و رسوخ نہیں۔اس کی 128 نشستیں عیسائی اور مسلم گروہوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہیں۔گذشتہ سال حزب اللہ کو اس وقت دھچکا لگا جب گروپ اور اس کے اتحادیوں نے اکثریت کھو دی۔امریکا اسے ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔

حزب اللہ نے اَزعور کو ایک محاذ آرائی کا امیدوار قرار دیا ہے۔اس کا اشارہ مغرب اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے ان کے کردار کی طرف ہے جس کی قیادت فواد سنیورا کر رہے تھے،اس نے 15 سال قبل حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ سیاسی تنازع شروع کیا تھا۔

اقتدار کی اس کشمکش کا اختتام 2008 میں خانہ جنگی کے ایک مختصر دور میں ہوا اور حزب اللہ نے بیروت کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔حزب اللہ کے قانون ساز حسن فضل اللہ نے گذشتہ ہفتے صدارتی محل کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے حامیوں کو بتایا تھا کہ 'محاذ آرائی کا امیدوار بعبدہ نہیں پہنچے گا۔

حزب اللہ کے حامی اخبار الاخبار نے 3 جون کو ایک تصویر کے ساتھ اَزعور کی امیدواری کی خبر شائع کی تھی جس میں وہ سابق وزیر اور سابق وزیراعظم سعد حریری کے مشیر محمد شطح کے برابر فریم میں دکھائی دے رہے ہیں، جنھیں 2013 میں قتل کر دیا گیا تھا۔سعد حریری نے اس وقت حزب اللہ پر ان کے قتل میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔حزب اللہ نے کسی بھی کردار سے انکار کیا تھا۔

ستاون سالہ ازعور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی امیدواری کا مقصد کسی کے لیے چیلنج نہیں ہے۔اتحاد، صف بندیوں کو توڑنے اور بحران سے نکلنے کے لیے مشترکہ مؤقف کی تلاش کی کال ہے۔

اَزعور کی بہ طور صدارتی امیدوارحمایت میں اضافہ ہوا ہے اور حزب اللہ کے عیسائی اتحادی جبران باسیل نے ان کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔انھیں حزب اللہ مخالف کرسچن لبنانی فورسز پارٹی، دروز ولید جنبلاط کے زیر قیادت پروگریسو سوشلسٹ پارٹی اور کچھ سنی مسلم قانون سازوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

تاہم مبصرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اَزعور کے کچھ حامی ان کی امیدواری کو استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کو سلیمان فرنجیہ کو چھوڑنے اور سمجھوتے پر بات چیت شروع کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ستاون سالہ فرنجیہ ایک قدیم مسیحی سیاسی خاندان کے وارث ہیں۔ وہ شام کے صدر بشار الاسد کے دوست ہیں اور انھوں نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کو اسرائیل سے لبنان کے دفاع کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں