لبنان میں فلسطینی مہاجرین کے عین الحلوہ کیمپ میں واقع اسکول پر جنگجوؤں کا قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں فلسطینی مہاجرین کے سب سے بڑے کیمپ عین الحلوہ میں مسلح دھڑوں کے درمیان جھڑپیں ختم ہونے کے دو ہفتے بعد بھی عسکریت پسند اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک اسکول کمپلیکس پر قابض ہیں۔

لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے اُنروا کی ڈائریکٹر ڈورتھی کلاؤز نے جمعرات کوایک بیان میں کہا ہے کہ ایجنسی کو ’’خطرناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مسلح عناصر عین الحلوہ کیمپ میں ایک اسکول کے احاطے سمیت اس کی تنصیبات پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

اسکول کایہ کمپاؤنڈ کیمپ کے کل 6,000 طلبہ میں سے 3،200 کو تعلیم مہیا کرتا ہے۔ عین الحلوہ میں 50،000 سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں کلاؤز نے کہا تھا کہ اسکول کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے کیمپ میں طلبہ کے لیے تعلیمی سال کا آغاز تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’عسکریت پسندوں کی مسلسل موجودگی بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے احاطے کی خلاف ورزی کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور ان کی کارروائی ہمارے عملہ اور کیمپ میں مقیم پناہ گزینوں کی حفاظت اور سلامتی کو کمزور کرتی ہے‘‘۔

ایک مقامی فلسطینی عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں مخالف فریقوں کے عسکریت پسندوں نے مختلف اسکولوں پر قبضہ کر لیا ہے اورانھیں 'محفوظ پناہ گاہ' کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے وہاں سے کمپیوٹر اوردیگر آلات لوٹ لیے ہیں۔

کیمپ میں متحارب فلسطینی دھڑوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد بچّوں کی حفاظت کے لیے اسکول کی عمارتوں کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی تحریک فتح اور شدت پسند گروہوں جند الشام اور شباب المسلم کے درمیان کئی روز تک شدید جھڑپیں جاری رہی ہیں۔فتح نے شدت پسندوں پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے 30 جولائی کو فتح کے فوجی جنرل ابو اشرف الارموشی کو کیمپ میں گولی مار کرہلاک کر دیا تھا۔

اُنروا کے حکام کے مطابق لڑائی میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے اور کیمپ میں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں