دبئی آر ٹی اے ٹیکسی آئی پی او سے تقریباً 300 ملین ڈالرکے حصول کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی ٹیکسی کارپوریشن، جو کہ امارات کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ایک اکائی ہے،نے اگلے ماہ حصص کی فروخت سے تقریباً 300 ملین ڈالر اکٹھا کرنے پر توجہ مرکوز کرلی ہے، جسے شہر کی رواں سال میں پہلی نجکاری قرار دیا جارہا ہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ابتدائی عوامی پیشکش کے حصے کے طور پر، ٹیکسی آپریٹر اپریل میں کم از کم $19 ملین (71 ملین درہم) کا چوتھی سہ ماہی میں ڈیویڈنڈ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ بعد ازاں دبئی ٹیکسی 2024 کے مالی سال سے اپنے سالانہ خالص منافع کا کم از کم 85 فیصد دو ڈیویڈنڈ ادائیگیوں میں ادا کرے گی۔

ابتدائی عوامی پیشکش وہ عمل ہے جس کے ذریعے ایک کمپنی اپنے سٹاک کو فروخت کر کے پبلک کی جا سکتی ہے۔ کمپنی کے لیے آئی پی او کی پیروی کرنے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے کہ سرمایہ بڑھانا یا کمپنی کے پبلک پروفائل کی طرف پیش قدمی۔ اس طرح کمپنیاں عوام کو حصص بیچ کر اضافی سرمایہ اکٹھا کر سکتی ہیں۔

جسے کاروبار کو بڑھانے، تحقیق اور ترقی پر صرف کرنےیا قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، بینک آف امریکہ کارپوریشن، سٹی گروپ انکارپوریشن، اور ایمریٹس این بی ڈی کیپیٹل کے ساتھ اس پیشکش کو الانچ کرنے پر کام کر رہی ہے جسے دبئی میں لسٹ کیا جائے گا۔

روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اپنے اثاثوں کے ذریعےسرمائے کا حصول چاہتی ہے۔ انہی کوششوں کے طور پراتھارٹی کی مالک دبئی حکومت نے 2022 میں شہر کے روڈ ٹول آپریٹرکے آئی پی او سے ایک ارب ڈالر حاصل کئے تھے۔ جبکہ دبئی پارکنگ بھی ٹیکسی آئی پی او کے بعد سرمایہ کاری کے کیلئے پیش کیا جائے گا۔

سال ۲۰۲۱ کے اواخر سے مشرق وسطیٰ میں آئی پی او کی سرمایہ کاری میں تیزی کی ایک لہر دیکھی جارہی ہے۔ اس کی وجوہات میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کا رجحان اور حکومت کی طرف سے نجکاری کی مہم کو بڑھاوا دینا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں