فلسطین اسرائیل تنازع

ایندھن کی قلت اور مواصلاتی بندش، غزہ کو امدادی رسد دوبارہ روک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

جمعہ کو ایندھن کی قلت اور مواصلاتی بندش کی وجہ سے غزہ کو اقوامِ متحدہ کی امداد کی ترسیل دوبارہ معطل کر دی گئی جس سے ہزاروں بھوکے اور بے گھر فلسطینیوں کے مصائب مزید گہرے ہو گئے جبکہ اسرائیلی فوج کی انکلیو میں حماس کے عسکریت پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ خوراک کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے عام شہریوں کو "فوری طور پر فاقہ کشی کے امکان" کا سامنا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی وافا نے کہا کہ اسرائیلی حملے میں متعدد فلسطینی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے جس نے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح سرحدی گذرگاہ - امداد کے لیے نقل و حمل کے مقام - کے قریب بے گھر افراد کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا۔

الجزیرہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اطلاع کردہ حملے پر اسرائیل کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا اور رائٹرز اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔

دوسری پیش رفت میں اسرائیل نے کہا کہ اس کے فوجیوں کو غزہ کی پٹی کے شمال میں الشفاء ہسپتال میں حماس کے زیرِ استعمال سرنگ کا دہانہ ملا ہے۔

مریضوں اور بے گھر لوگوں کی وجہ سے پرہجوم اور کام جاری رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا ہوا ہسپتال اس ہفتے عالمی تشویش کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس نے اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کر رکھا ہے اور اس نے الشفاء جیسے ہسپتالوں کے نیچے سرنگوں کے نیٹ ورک میں یرغمالیوں کو رکھا ہوا ہے اور مریضوں اور وہاں موجود پناہ گزینوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

جنگ اپنے ساتویں ہفتے میں داخل ہونے والی ہے اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی یا کم از کم انسانی بنیادوں پر تؤقف کے مطالبات کے باوجود کسی بھی طرح اس کے تھمنے کے آثار نظر نہیں آتے۔

یہ تنازعہ 7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے سرحد پار چھاپے سے شروع ہوا تھا جس میں ریاست کی 75 سالہ تاریخ کے خطرناک ترین دن میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

12 نومبر 2023 کو غزہ سٹی میں ایک شخص ہسپتال کے ارد گرد اسرائیلی زمینی آپریشن کے دوران الشفاء ہسپتال کے احاطے میں موجود ہے۔ (رائٹرز)
12 نومبر 2023 کو غزہ سٹی میں ایک شخص ہسپتال کے ارد گرد اسرائیلی زمینی آپریشن کے دوران الشفاء ہسپتال کے احاطے میں موجود ہے۔ (رائٹرز)

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 11,500 سے زیادہ فلسطینی جن میں سے کم از کم 4,700 بچے ہیں، اب تک حماس کے زیرِ اقتدار غزہ پر اسرائیل کے جوابی فوجی حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں - یہ تعداد حالیہ برسوں میں تنازعات کی گذشتہ جھڑپوں کے ہلاک شدگان سے کہیں زیادہ ہے۔

اسرائیل نے عسکریت پسند گروپ کا صفایا کرنے کا عزم کیا ہے۔ امدادی اداروں نے کہا ہے کہ غزہ کے پورے کے پورے محلے فضائی اور توپخانے کے حملوں میں تباہ ہو گئے ہیں، لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں اور انسانی صورتِ حال تباہ کن ہے۔

ٹرک معطل

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ ایندھن کی قلت اور مواصلاتی بندش کی وجہ سے جمعہ کو سرحد پار سے کوئی امدادی کارروائی نہیں ہوگی۔ امدادی سامان کی تقسیم کے لیے ایندھن کی کمی کی وجہ سے جمعرات کو مسلسل دوسرے دن کوئی امدادی ٹرک غزہ نہیں پہنچا۔

ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی میک کین نے کہا کہ تقریباً پوری آبادی کو خوراک کی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "غزہ میں خوراک اور پانی کی سپلائی عملاً نہ ہونے کے برابر ہے اور اشد ضروری امداد کا صرف ایک حصہ سرحدوں سے پہنچ رہا ہے۔"

میک کین نے کہا، "موسم سرما کے تیزی سے قریب آنے، غیر محفوظ اور پرہجوم پناہ گاہوں اور صاف پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو فاقہ کشی کے فوری امکان کا سامنا ہے۔"

اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف نے کہا اسرائیل شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے فوجی نظام کو تباہ کرنے کے قریب ہے اور اس بات کے آثار ہیں کہ فوج اپنی مہم کو 2.3 ملین افراد کی آبادی والے ساحلی انکلیو کے دیگر حصوں میں لے جا رہی ہے۔

اسرائیل نے حماس پر لوگوں کو غزہ کی پٹی کے جنوب کی طرف جانے سے روکنے کا الزام لگایا جس کی عسکریت پسند گروپ نے تردید کی۔

16 نومبر 2023 کو جنوبی اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں تباہ شدہ عمارتیں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ (اے پی)
16 نومبر 2023 کو جنوبی اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں تباہ شدہ عمارتیں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ (اے پی)

فوج نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاء کے بیرونی علاقے میں ایک سرنگ کا داخلی راستہ دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو جس کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کرسکا، اس میں زمین میں ایک گہرا سوراخ دکھایا گیا جو کنکریٹ اور لکڑی کے ملبے اور ریت سے گھرا ہوا اور اٹا ہوا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ علاقے کی کھدائی کی گئی تھی۔ پس منظر میں ایک بلڈوزر تھا۔

فوج نے کہا کہ اس کے فوجیوں کو ہسپتال میں ایک گاڑی بھی ملی ہے جس میں بڑی تعداد میں ہتھیار تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے صحافی 24 گھنٹے سے زیادہ وقت سے الشفاء ہسپتال کے اندر کسی تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

حماس نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ کہ گروپ الشفاء کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے "ایک صریح جھوٹے بیانیہ کی تکرار ہے جس کا مظاہرہ قابض فوج کے ترجمان کی کمزور اور مضحکہ خیز کارکردگی سے ہوتا ہے۔"

اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے میں مسلح افراد کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 240 میں سے کچھ افراد کو ہسپتال کے احاطے میں رکھا ہوا تھا۔

جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں نے ایک خاتون فوجی کی لاش برآمد کی جسے الشفاء کے قریب ایک عمارت میں قید کیا گیا تھا۔

فوج نے منگل کے روز اس کی موت کی تصدیق کی تھی جب حماس نے اس کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اسے زندہ اور پھر ایک لاش کی تصاویر دکھائی گئیں جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اس خاتون کی لاش تھی جو اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔

جمعرات کو فوجیوں نے الشفاء کے قریب ایک عمارت سے بھی ایک اور یرغمال خاتون کی لاش برآمد کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں