نوبیل انعام یافتہ ایرانی خاتون نرگس محمدی کے بچوں کو ماں سے کبھی مل نہ سکنے کا خوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جیل میں قید خاتون اور نوبیل انعام کی حقدار قرار دی جانے والی نرگس محمدی کے بچوں کو خوف ہے کہ وہ شاید اب کبھی اپنی ماں کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ نرگس محمدی ایران کی ایک جیل میں سزا بھگت رہی ہیں اور انہیں مغربی ممالک کی حمایت یافتہ انسانی حقوق کی کارکن ہونے کے ناطے سزا سنائی گئی ہے۔

نرگس محمدی کو رواں سال نوبیل انعام کی مستحق قرار دیا گیا ہے۔ ان کی طرف سے نوبیل انعام ان کے سترہ سالہ جڑواں بچے (بیٹی کیانہ اور بیٹا علی ) اوسلو میں وصول کرنے کا اعزاز ان بچوں کے حصے میں آیا ہے۔

51 سالہ نرگس محمدی ایران میں قید ہیں جبکہ ان کے دونوں بچے اور شوہر ایران سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

نرگس محمدی کی بیٹی کیانہ رحمان نے اپنی والدہ کو آخری بار آٹھ سال کی عمر میں دیکھا تھا وہ اب اپنی ماں کو دوبارہ دیکھنے کے حوالے سے مایوس ہے، ' کیانہ کا کہنا ہے 'ہو سکتا ہے میں اگلے تیس چالیس سال میں اپنی ماں کو پھر دیکھ سکوں، مگر ایسا نہیں لگتا کہ دیکھ سکوں گی۔ لیکن کوئی بات نہیں میری ماں ہمیشہ میرے دل میں رہتی ہے۔ '

نرگس محمدی کے بیٹے علی نے نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا ' میں نے اپنی ابتدائی زندگی میں ہی مان لیا تھا کہ میرے خاندان کو اسی طرح ایک دوسرے سے دور اور الگ تھلگ رہنا ہوگا۔مجھے اپنی مان پر ہمیشہ فخر رہے گا'

نرگس کے شوہر تقی رحمان نے کہا ' نوبیل انعام نرگس کی آواز کو مزید طاقت دے گا ، اگرچہ ان کے لیے ذاتی طور پر مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں