فلسطین اسرائیل تنازع

نیتن یاہو کا قیدیوں کی بازیابی کے لیے مذاکرات کا اعلان،حماس کا جنگ ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ حماس کے زیر حراست قیدیوں کی بازیابی کے لیے نئے مذاکرات جاری ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ نے حماس اور تل ابیب کے درمیان ثالثی کرنے والے قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے مذکورہ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ حماس کو معلومات ظاہر نہیں کریں گے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے نے نومبر میں قیدیوں کی رہائی کے لیے جزوی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں مذاکراتی ٹیم کو جو ہدایات دیتا ہوں وہ اس دباؤ پر مبنی ہیں جس کے بغیر ہمارے پاس کچھ نہیں ہے"۔

نیتن یاہو نے کہا کہ "اسرائیل کو غزہ پر مذاکرات میں جنگ بندی اور افواج کے انخلاء کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا"۔

دوسری جانب حماس نے ہفتے کی شام ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی پر حملہ روکنے سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

حماس نے بیان میں کہا کہ "حماس اپنے موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا آغاز اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوجاتی۔ حماس نےیہ پیغام ثالثوں تک بھی پہنچا دیا ہے۔

اس سے قبل ہفتے کے روز امریکی میڈیا نے ایک اسرائیلی ذریعے سے اطلاع دی تھی کہ تل ابیب نے حماس کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے بارے میں بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جس میں 7 اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں تحریک کی طرف سے حراست میں لی گئی باقی خواتین کی رہائی بھی شامل ہے۔

جمعہ کی رات غزہ کی پٹی میں اسرائیلی زیر حراست افراد کے خاندانوں کے سینکڑوں افراد اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے اور اپنے پیاروں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبات اسرائیلی فوج کی جانب سے 3 قیدیوں کو غلطی سے ہلاک کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں حماس کے ہاتھوں تین اسرائیلی یرغمالی "غلطی سے" مارے جانے کے بعد "ناقابل برداشت سانحہ" پر افسوس کا اظہار کیا جب اسرائیلی افواج کا خیال تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے کہا کہ "شجاعیہ میں لڑائی کے دوران، فوج نے غلطی سے تین اسرائیلی قیدیوں کو خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ فسوسناک واقعہ ہے جس پر وہ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کے اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد غزہ میں اب تک 19 ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں