یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کیلئے سعودی کوششیں قابل تعریف: سربراہ یمنی صدارتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے آج اتوار کو یمن میں جنگ بندی کے حصول اور حوثی گروپ کی جانب سے تعطل کے شکار سیاسی عمل کو بحال کرنے کے لیے سعودی عرب کی قابل تعریف کوششوں کی تعریف کی۔ یاد رہے سیاسی عمل ستمبر 2014 میں قومی اتفاق رائے کے خلاف بغاوت کے بعد سے معطل ہوگیا ہے۔

رشاد العلیمی نے زور دیا کہ کونسل اور حکومت ان تمام اقدامات کو انجام دے رہی ہے جو حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امن کے حصول، ریاستی اداروں کو بحال کرنے اور شہریوں کے حالات زندگی بہتر بنانے میں مفید ہیں۔

رشاد العلیمی نے یہ بات مصر کے سفیر احمد فاروق کے ساتھ ملاقات کے دوران کی۔ ملاقات میں یمن کی صورت حال میں ہونے والی پیش رفت اور اقوام متحدہ کی کوششوں کے نتائج پر مبنی ایک جامع سیاسی عمل شروع کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور سلطنت عمان کی کوششوں سے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق ہو گیا ہے۔

یمنی حکومت نے جنگ کے خاتمے اور یمنی بحران کے حل کے لیے روڈ میپ تک پہنچنے کی کوششوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایلچی کے جاری کردہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ کی طرف سے ہفتے کی شام ایک بیان میں خلیجی اقدام اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کے مطابق یمن میں بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے حکومت کے مثبت معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ معاملات جامع قومی ڈائیلاگ کانفرنس، سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے نتائج اور یمنی عوام کی امنگوں اور امیدوں کو پورا کرنے کی تین شرائط کے مطابق آگے بڑھیں گے۔

یمنی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور سلطنت عمان کے بھائیوں کی طرف سے تصفیہ کو آگے بڑھانے اور سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں