ایرانی جنرل کا قتل، تل ابیب سخت ردعمل کے لیے تیار رہے: عبداللہیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں اسرائیلی حملے میں قدس فورس کے ایک سرکردہ کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ایران کے اعلیٰ ترین حکام کے مطابق تہران نے اس کارروائی کا سخت جواب دینے کا عہد کیا ہے۔

آج منگل کو ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ’قدس فورس‘ کے تجربہ کار مشیروں میں سے ایک جنرل سید راضی موسوی کے قتل کے بعد اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ "تل ابیب کو اس اقدام پر جواب دینے کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اور اسرائیل کو اس کے جواب کا انتظارکرنا چاہیے‘‘۔

"صحیح وقت اور جگہ پر"

ایرانی حکومت کے ترجمان علی بہادری جہرومی نے بھی کہا کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈرسید راضی موسوی کے قتل کا ردعمل یقینی ہے اور یہ رد عمل مناسب وقت اور جگہ پردیا جائے گا۔

فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نے کہا کہ ایران کا ردعمل "موثر، نتیجہ خیز اور تیز ہوگا"۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بھی کل سوموار کو کہا تھا کہ "اسرائیل یقینی طور پر اس کی قیمت ادا کرے گا"۔

شامی آبزرویٹری کے مطابق دمشق کے نواح میں اسرائیلی بمباری
شامی آبزرویٹری کے مطابق دمشق کے نواح میں اسرائیلی بمباری

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق رضی موسوی شام میں دمشق کے قریب سیدہ زینب کے علاقے میں اپنی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق راضی موسوی قدس فورس میں سب سے زیادہ تجربہ کار مشیروں میں سے ایک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایرانی پاسداران انقلاب میں غیر ملکی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں