ہم پر نسل کشی کا الزام مضحکہ خیز اور سفاکانہ ہے: اسرائیلی صدر کی بلنکن سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے پر اپنے ملک کے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے بھی اسے ’مضحکہ خیز اور سفاکانہ‘ قرار دیا۔

منگل کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں دائر کیے گئے مقدمے سے زیادہ سفاکانہ اور مضحکہ خیز کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عجیب ہے کہ ان کے ملک پر غزہ جنگ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔

شکریہ اور تنقید

بلنکن کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران ہرتصوغ نے جنوبی افریقہ پر مقدمہ دائر کرنے پر تنقید بھی کی، جس کی سماعت اگلے جمعرات کو شروع ہونے والی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی کا منظر
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی کا منظر

جنوبی افریقہ نے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی عدالت کے سامنے مقدمہ دائر کیا جس میں 84 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی جس میں نسل کشی کنونشن مجریہ 1948 کی دفعات کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

عالمی عدالت میں دی گئی درخواست میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم کے ارتکاب کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ محصور فلسطینی پٹی میں اسرائیلی افواج کی طرف سے اپنایا جانے والا نقطہ نظر "نسل کشی کی نوعیت کا ہے کیونکہ اس کا مقصد اس کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا تھا اور ساتھ ہی اس کی شہری آبادی کی ایک بڑی تعداد کو ختم کرنا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے میں 23 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت، چھوٹی ساحلی پٹی کے ایک بڑے حصے کی تباہی اور 23 لاکھ افراد کی آبادی کا بیشتر حصہ بے گھر ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں