اسرائیلی یرغمالی کے والد کی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے گھر کے باہر بھوک ہڑتال شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تل ابیب میں حماس کے ہاتھ 7 اکتوبر کو یرغمال بننے والے اسرائیلی شہریوں کے درجنوں رشتہ داروں نے ہفتے کے روز قیصریہ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی نجی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کا انعقاد کیا۔

حکومت کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے نئے معاہدے پر پیش رفت نہ ہونے کے خلاف احتجاج کرنے کی غرض سے مظاہرین نے نیتن یاہو کے گھر کے باہر خیموں میں رات گذارنے کا ارادہ کیا ہے۔

مظاہرین میں ایلی شٹیوی بھی شامل ہیں جنہوں نے جمعہ کو بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ ان کا 28 سالہ بیٹا ایدان 7 اکتوبر کو سپرنووا میوزک فیسٹیول سے اغوا ہونے کے بعد سے غزہ میں قید ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ غزہ میں یرغمالیوں کو دی جانے والی رپورٹ کردہ خوراک کو مدِنظر رکھتے ہوئے وہ ہر روز صرف ایک چوتھائی پیٹا روٹی کھائیں گے۔

جن یرغمالیوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حماس کی قید میں ہیں، ان کے بارے میں حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن فوجی کارروائی کے خاتمے کے بغیر ان 100 سے زیادہ یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گی۔

کچھ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی زندگیوں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر بے ساختہ احتجاجی اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ اسرائیل کی جنگی کابینہ میں یرغمالیوں کو گھر پہنچانے کے منصوبے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔

اسرائیل کہتا ہے کہ اس نے بڑی حد تک شمالی غزہ میں بڑی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں اور اب اس کی توجہ مرکزی علاقے اور جنوبی شہر خان یونس پر مرکوز ہے۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ لڑائی مزید کئی مہینوں تک جاری رہے گی کیونکہ فوج حماس کو ختم کرنے اور مزاحمت کار گروپ کے 7 اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے متعدد افراد کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی۔

حماس کے غزہ سے جنوبی اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 250 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 24,400 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں پھنسے 2.3 ملین افراد میں سے ایک چوتھائی بھوکے مر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں