امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پیر کو صبح سویرے کہا کہ یمن کے حوثیوں نے 24 فروری کو ایک جہاز شکن بیلسٹک میزائل داغا جس کا نشانہ ممکنہ طور پر خلیجِ عدن میں امریکی پرچم اور ملکیت کا حامل اور اس کے زیرِ انتظام چلنے والا آئل ٹینکر ایم وی ٹارم تھور تھا لیکن نشانہ چوک گیا۔
سینٹ کام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ میزائل پانی میں گرا جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے ٹینکر کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جہاز رانی کے راستوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فوج نے اتوار کو "اپنے دفاع" میں جنوبی بحیرۂ احمر کے اوپر دو یک طرفہ بغیر پائلٹ کے فضائی حملہ کرنے والی گاڑیوں کو بھی مار گرایا۔
یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے حصوں پر قابض حوثیوں نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاجاً 19 نومبر سے تجارتی جہازوں پر ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔
فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کی شورش کسی حد تک شرقِ اوسط کے دیگر حصوں تک پھیل گئی ہے۔ اہم بحری راستوں پر حوثیوں کے حملوں کے علاوہ لبنان کے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ نے اسرائیل-لبنان کی سرحد پر اسرائیل کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے اور عراقی ملیشیا نے امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے فوجی مراکز پر حملہ کیا ہے۔
-
یمن پر امریکی-برطانوی حملوں سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا: ایران
ایران نے اتوار کے روز یمن پر امریکہ اور برطانیہ کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ...
مشرق وسطی -
غزہ پر انتشار کے بعد پارلیمنٹ کو دھمکیوں کے آگے نہیں جھکنا چاہیے: وزیرِ اعظم سونک
برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ تنازعہ پر کچھ قانون سازوں ...
بين الاقوامى -
یمن کے حوثی باغیوں کا امریکہ اور برطانیہ کے حملوں میں پہلی شہری ہلاکت کا اعلان
یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ہفتے کے آخر میں مشترکہ چھاپوں کے تازہ ...
مشرق وسطی