فلسطین اسرائیل تنازع

بینی گینٹزکی میٹنگ کے بارے میں نئی تفصیلات، وائٹ ہاؤس نیتن یاہو سے ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تین اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر بینی گینٹز کی گذشتہ روز وائٹ ہاؤس میں نائب صدر کملا ہیرس اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے ملاقات کے دوران غزہ کی پٹی میں انسانی بحران اور اسرائیلی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے شدید تنقید اور مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

Axios ویب سائٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ گینٹز جسے اسرائیلی جنگی کابینہ کا زیادہ اعتدال پسند رکن سمجھا جاتا ہےنے اس مایوسی کا بہت زیادہ احساس کیا جو وائٹ ہاؤس اس وقت اسرائیلی حکومت کے بارے میں محسوس کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا صبر پیمانہ ٹوٹ چکا

گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے سخت عوامی تنقید کے ساتھ گینٹز کو نجی طور پر موصول ہونے والے سخت پیغامات نے اس بات کا اشارہ کیا کہ وائٹ ہاؤس کا صبر پیمانہ کھو چکا ہے اور وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکارنے وضاحت کی کہ گینٹز کی وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تیاری کے لیے اتوار کو ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اسرائیلی وزیر کو یہ احساس ہونے لگا کہ اسرائیلی حکومت "گہری پریشانی میں" ہے۔ کیونکہ امریکہ غزہ میں انسانی بحران کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔

غزہ میں امداد کےانبار لگا دینے کی ضرورت

اسرائیلی اور امریکی حکام نے اطلاع دی کہ بینی گینٹز نے وائٹ ہاؤس میں تین گھنٹے گذارے۔ ہیرس اور سلیوان نے اس پر انسانی صورتحال پر دباؤ ڈالا اور کہا کہ غزہ کو امداد کے تیز ترین بہاؤ کی ضرورت ہے اور یہ اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حل تلاش کرے۔

اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ہیریس نے گینٹز کو بتایا کہ انتظامیہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھنا چاہتی ہے، لیکن اسرائیلی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ نائب صدر نے کہا کہ ہماری مدد کریں، ہم آپ کی مدد کریں گے"۔

اہلکار نے وضاحت کی کہ گینٹز کو نہ صرف انسانی بحران پر تنقید کی طاقت سے حیرت ہوئی بلکہ رفح میں ممکنہ آپریشن کے حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان فاصلے پر بھی حیرت ہوئی۔

بینی گینٹز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ (اے پی)
بینی گینٹز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ (اے پی)

رفح آپریشن

اس کے علاوہ دو امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں نے بتایا کہ ہیرس اور سلیوان نے گینٹز سے پوچھا کہ اسرائیل رفح میں موجود دس لاکھ سے زائد فلسطینی شہریوں کو کہاں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے رفح میں آپریشن کے امکان پر اپنے گہرے شکوک کا اظہار کیا۔

جبکہ گینٹز نے ہیرس اور سلیوان کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ اسرائیل شہری آبادی کو خالی کیے بغیر رفح میں داخل نہیں ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کے پاس ایسا کرنے کے طریقے موجود ہیں، لیکن انھوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وائٹ ہاؤس نے اس مسئلے کے بارے میں نیتن یاہو کو موصول ہونے والی پچھلی یقین دہانیوں پر یقین نہیں کیا۔

گینٹز کے وائٹ ہاؤس کے دورے نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو برہم کردیا جنہوں نے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کو حکم دیا کہ وہ اس دورے میں شریک نہ ہوں یا گینٹز کی کسی بھی طرح مدد نہ کریں۔

گینٹز نیتن یاہو کے سیاسی حریف ہیں جو اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کے مطالبات کے ساتھ بڑھتے ہوئے دباؤ میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں