بیروت میں حماس اور ایران کے ایجنٹ کا قتل ایک نیا معمہ،کیایہ اسرائیل کی کارروائی ہے؟

لگتا ہے کہ محمد سروس کو پرتشدد تفتیش کا نشانہ بنایا گیا تھا:لبنانی پولیس، قتل میں ’موساد‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سکیورٹی ذریعے نے بدھ کو ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ لبنانی سکیورٹی فورسز کا خیال ہے کہ ایران اور حماس کےدرمیان رقوم کی منتقلی کے ذمہ دار ایک ایجنٹ محمد سرور کے قتل سے قبل اسے مبینہ طور پر پُرتشدد تفتیش کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی میڈیا نے امکان ظاہر کیا ہے کہ محمد سروس کی ہلاکت میں اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی چینل 14 نے کہا تھا کہ اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنانی منی چینجر محمد سرور کا قتل موساد کی کارروائی تھی کیونکہ وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے کام کرنے اور اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے مطلوب تھے۔

دو عدالتی عہدیداروں نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ سرور کو مشرقی بیروت میں ایک خاتون کے گھر پر لالچ دے کربلایا گیا جہاں اسے چھ گولیاں مار کر قتل کیا گیا، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے کئی لوگوں کا ہاتھ ہے۔

امریکہ میں بلیک لسٹ محمد سرور پر الزام تھا کہ وہ ایران سے حماس تحریک کے عسکری ونگ کو رقوم کی منتقلی میں سہولت کاری کرتا رہا ہے۔ اسے بیروت کے قریب ایک گھر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

اسی ذریعہ کے مطابق سرور منگل کے روز لبنان کے دارالحکومت کے قریب بیت مری قصبے کے ایک گھر میں کم از کم پانچ گولیاں لگنے کے بعد مردہ پائے گئے۔

سرور نے لبنانی حزب اللہ سے وابستہ مالیاتی اداروں میں کام کیا جو ایران کا وفادار اور حماس کا اتحادی ہے۔ 2019 سے امریکا نے اس پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔

پانچ سال پہلے امریکی محکمہ خزانہ نے سرور سمیت چار افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جن پر "قدس فورس سے دسیوں ملین ڈالر" کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ نے اس وقت اشارہ کیا تھا کہ سرور "دسیوں ملین ڈالر سالانہ القدس فورس سے عزالدین القسام بریگیڈز کو منتقل کرنے کا ذمہ دار ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں