فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اسرائیلی جنگ ،فلسطینی فوٹو گرافر کی تصویر نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز ' سے وابستہ فلسطینی فوٹو گرافر محمد سالم نے غزہ کے اس جنگ زدہ ماحول میں زندگی کو بچانے کی عکاسی کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ایوارڈ جیتا ہے، جب 99 صحافی اس غزہ جنگ کی کوریج کر تے ہوئے زندگی ہار چکے ہیں اور جاں بحق ہونے والے 33970 فلسطینیوں میں سے دوتہائی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

یہ تصویر 'رائٹرز ' کے اس فوٹو گرافر نے 17 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کے شہرخان یونس کے جنگ زدہ الناصر ہسپتال میں اس وقت بنائی تھی جب ہسپتال میں بھی اسرائیلی فوج موت بانٹ رہی تھی اور ایک نومولود بچی کی ماں بھی اسی جنم دینے کے بعد ہلاک ہو گئی تھی۔

مگر اس کی 36 سالہ چچی اناس ابو معمر اس بچی کی زندگی بچانے لئے اپنی جان کی پرواہ کرنے کو تیار نہ تھی۔گویا وہ موت کی بارش سے اس اپنی بھتیجی کے لئے زندگی کی رحمت کی طلبگار تھی۔ 39 سالہ محمد سالم نے اپنے کیمرے کی انکھ سے انہی لمحات کو محفوظ کر لیا تھا۔ اس نومولود بھتیجی کی جان بچانے لئے اس کی چچی گویا اسی موت کی غار سے نکال لے جانے کے لئے اسے اٹھائے ہوئے تھی۔

17 اکتوبر کو بنائی گئی اس تصویر پر محمد سالم کو ڈبلیو پی پی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔اس کا کہنا ہے ' یہ محض ایک تصویر نہیں ہے کہ جس کے ایوارڈ پانے پر خوشی منائی جائے ' میں نے محسوس کیا کہ تصویر غزہ کی پٹی میں درپیش حالات اس کے وسیع تر احساسات کا خلاصہ ہے۔'

محمد سالم نے مزید کہا ' جب یہ تصویر پہلی بار نومبر میں شائع ہوئی تھی۔ لوگ پریشانی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ رہے تھے، اپنے پیاروں کی قسمت جاننے کے لیے بے چین تھے، مگر اس عورت نے میری نظر اس وقت اپنی مبذول کرالی جب اس نے چھوٹی بچی کی لاش پکڑی ہوئی تھی اور جانے سے انکار کر دیا تھا ۔یوں اس نےچھوٹی سی جان بچانے کے لئے اپنی زندگی مشکل میں ڈال دی ۔'

خیال رہے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے فوٹوگرافر محمد سالم نے غزہ کی پٹی میں اپنی پانچ سالہ بھتیجی کی لاش کو جھولنے والی ایک فلسطینی خاتون کی تصویر کے لیے جمعرات کو 2024 کا ورلڈ پریس فوٹو آف دی ایئر ایوارڈ جیتا۔ یہ تصویر 17 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے الناصر ہسپتال میں بمباری کے دوران لی گئی تھی۔

محمد سالم کا کہنا ہے ' اس تصویر پر ایوارڈ جیتنے پر خوشی منانے کی والی بات نہیں ہے بلکہ وہ اس کی پہچان اور اسے وسیع تر سامعین تک شائع کرنے کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ '

' روئٹرز' کے گلوبل ایڈیٹر برائے تصاویر اور ویڈیو، رکی راجرز ایمسٹرڈیم میں ایک تقریب میں کہا' اس ایوارڈ کے ساتھ امید کرتا ہوں کہ دنیا جنگ کے انسانی اثرات کے بارے میں اور زیادہ شعور پا سکے گی، خاص طور پر بچوں کے حالات کے بارے میں۔' یہ بات راجرز نے نیو کیرک میں تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر کہی۔

ایمسٹرڈیم میں قائم 'ورلڈ پریس فوٹو فاؤنڈیشن ' کی طرف سے اپنے سالانہ ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ' اس غزہ جنگ کے دوران اب تک کوریج کرنے والے 99 صحافی اور میڈیا ملازمین ہلاک ہو چکے ہیں.'

یہ صورت حال بتاتی ہے کہ ' دنیا بھر میں پریس اور دستاویزی فوٹوگرافروں کا کام اکثر زیادہ خطرے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔'

عالمی برادری کو جنگ کے انسانیت سوز اثرات کو دکھانے کے لیے اس صدمے کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ محمد سالم 2003 سے رائٹرز کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس نے 2010 کے ورلڈ پریس فوٹو مقابلے میں ایک ایوارڈ بھی جیتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں