غزہ میں انسانی تباہی کے خوفناک مناظر ناقابل بیان ہیں: مصری ڈاکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں زخمیوں کی طبی امداد اور ایمبولینس سروسزمیں حصہ لینے والے مصری ڈاکٹر احمد عبد العزیز جو آرتھوپیڈک اور اعصابی امراض اور زخموں کے علاج کے ماہر ہیں نے 10 روز غزہ کے جنھم زار میں تڑپتے زخمیوں کے درمیان گذارے۔

غزہ میں جو دیکھا وہ ناقابل بیان المیہ ہے

غزہ سے واپسی پر جمعہ کے روز ڈاکٹر احمد عبدالعزیز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو غزہ میں آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ میں نے دیکھا اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ شائد یہ اپنی نوعیت کا تباہ کن سانحہ اور انسانی المیہ ہے جسے بیان کرنےکے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہر طرف تباہی اور بربادی ہے، زندہ بھوکے بچے، زخمی عورتیں اور زخموں سے تڑپتے لوگ ہیں۔ ایسے خوفناک مناظر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر احمد نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دس روزہ قیام میں بہت سے زخمیوں کے آپریشن میں حصہ لیا مگر ہمارے پاس لائے جانے والے بعض زخمیوں کے زخم شائد ہی ٹھیک ہوسکیں یا انہیں ٹھیک ہونے میں کئی سال لگیں گے۔ بہت سے زخمی ایسے لائے جاتے جن کے ٹانگیں یا بازو کٹ گئے ہوتے۔

ناقابل رہائش

ڈاکٹر احمد عبدالعزیز نے وضاحت کی کہ ہر فلسطینی کو اس کے جسم میں ایک سے زیادہ زخم ہیں لیکن بہت سے اسرائیلی بمباری میں مستقل طور پر معذور ہوچکے تھے۔ غزہ میں زندگی نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ علاقہ انسانی رہائش کے قابل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جنگ ختم ہونے کے بعد بھی فلسطینی زندگی کے تمام اجزاء کو کھونے کے بعد پٹی میں رہائش اور زندگی نہیں کرسکیں گے‘‘۔

"ملبے کے نیچے قبریں"

مصری ڈاکٹرنے کہا کہ انہوں نےے دیکھا کہ ہزاروں فلسطینی عام کپڑوں سے بنائے غیرانسانی حالات میں خیموں میں رہتے ہیں۔ سارا دن کھانے پینے کے بغیر گزارتے ہیں۔ پورے پورے خاندان مارے جا چکے ہیں۔ بہت سے والدین کواپنے بچوں کی لاشوں یا قبروں کا بھی پتا نہیں۔ مائیں شہید بچوں کی لاشوں کو دیکھنے کےلیے روتی ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کے بچوں کی لاشیں کہاں ہیں۔ بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کے بعد زمین میں گہرائی میں دفن کردیا گیا اور ان کا اب پتا چلنا ممکن نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں