اسرائیلی ناکہ بندی، غزہ کے باشندے سمندر کا کھارا پانی پینے پرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کے پاس سمندر کے راستے پانی تک پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

8 ماہ کی خونریز جنگ، بے مثال تباہی اور غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ محاصرے کے بعد خاندانوں کے پاس پانی کی تلاش میں سمندر کا سہارا لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔مگر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سمندری پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

صاف پانی نہیں

’اونروا‘نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ صاف پانی تک رسائی پورےغزہ سیکٹرمیں لاکھوں لوگوں کی صحت اور بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔

اس نے وضاحت کی کہ زیادہ درجہ حرارت اور کم سطح کی حفظان صحت نے صحت کی صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو’اونروا‘ نے خبردار کیا تھا کہ صاف پانی تک محدود رسائی اور مسلسل بلند درجہ حرارت کی وجہ سے میں غزہ میں ہیضے کی وبا پھیلنے کے حقیقی خدشات موجود ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں نافذ کردہ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے کئی مہینوں سے پٹی میں داخل ہونے والی انسانی اور غذائی امداد کی کمی سے غزہ میں حالات زندگی شدید خراب ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں