اسرائیل کی نظر لبنان میں جنگ پرمرکوز مگرسفارت کاری ترجیح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں نو ماہ سے جاری حماس ۔ اسرائیل جنگ کے دوران لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر بھی کشیدگی بدستور جاری ری ہے۔

جنوبی لبنان میں حزب اللہ گروپ اور سرحد پر اسرائیلی فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد کشیدگی بہت شدت اختیار کر گئی، ہے۔ جس کے بعد ہر طرف جنگ کے امکانات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

کشیدگی کو روکنے اور کم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود روس میں اسرائیلی سفیر سیمونا ہالپرین نے کہا کہ تل ابیب لبنان کے ساتھ فوجی تصادم کے لیے تیار ہے، لیکن ان کا ملک ایک سفارتی حل کا موقع فراہم کرے گا۔

ہالپرین نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ تل ابیب لبنان کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگ میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔

ساتھ ہی اسرائیلی سفیر نے حزب اللہ کے خلاف جنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر لبنان کی سرحد پرحالات ایسے ہی برقرار رہے اسرائیل شمالی محاذ پر بڑے پیمانے پر جنگ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اب بھی سفارتی کوششوں کو موقع فراہم کر رہا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے شمالی محاذ پر گذشتہ چند دنوں کے دوران شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔اسرائیل کی جانب سے " جماعت اسلامی" کے 4 رہ نماؤں اور کارکنوں کے قتل اور اس کے رد عمل میں اسرائیل کے اندر حملوں نے کشیدگی سطح بڑھا دی ہے

گشتہ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ لبنان سے اسرائیل پر آدھے گھنٹے کے اندر تقریباً 45 میزائل داغے گئے۔ ان میں سے کچھ کو فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں