اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے اس نے حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے 20 کمانڈروں اور ارکان کو ہلاک کر دیا ہے اور حال ہی میں حزب اللہ کے 70 اہداف پر حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگاری نے ہفتے کی شام کہا کہ اسرائیلی فوج نے لبنانی حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے 20 سے زائد سینیر کمانڈروں کو ہلاک کر دیا۔
ہاگاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ اسرائیلی فوج شمالی محاذ کے حوالے سے تمام حالات کے لیے تیار ہے اور سیاسی سطح سے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں ہفتہ غزہ کی پٹی میں زیر حراست افراد کے لیے ہونے والے معاہدے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں فیصلہ کن ثابت ہو گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی اندازوں میں کہا گیا تھا کہ لبنانی ملیشیا جلد ہی اسرائیل پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جب کہ امریکہ نے خطے میں الرٹ کی حالت بڑھا دی ہے۔
اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے کہا کہ سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے باوجود حزب اللہ ملیشیا نے حملہ ترک نہیں کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے حزب اللہ کے جلد ہی حملے کےامکانات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں صورت حال کا جائزہ لیا۔
خیال رہے کہ تیس جولائی کو بیروت میں ایک اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیرترین کمانڈر فواد شکر کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد حزب اللہ نے اس ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
اس واقعے کے اگلے روز تہران میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو قتل کر دیا گیا جس کے بعد ایران نے اپنی سرزمین پر ہونے والے اس قتل کی ذمہ داری اسرائیلی ریاست پرعائد کرتے ہوئے تل ابیب سے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔