پیجر کے بعد لبنان میں Icom ڈیوائسز پھٹ گئیں، جاپانی کمپنی کا تحقیقات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

"پیجر" دھماکوں کی لہر کے ایک دن بعد جس نے لبنان کو ہلا کر رکھ دیا، ملک کے متعدد علاقوں میں مواصلاتی آلات میں دھماکوں کی دوسری لہر دیکھی گئی جس میں جاپانی کمپنی ICOM" ‘‘ کے وائرلیس میں پراسرار دھماکے ہوئے۔

لبنان کی وزارت مواصلات نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے ارکان کے زیر استعمال Icom V82 ڈیوائسز کو اڑا دیا۔

بیک وقت ہونے والے حادثات کی جگہوں سے لی گئی تصاویر میں مواصلاتی آلات کے پھٹنے والے اندرونی پینل کو بھی دکھایا گیا، جس پر "ICOM" اور "Made in Japan" لکھا ہوا تھا۔

وزارت مواصلات نے اعلان کیا کہ "Icom V82‘‘ ڈیوائسز جن میں دھماکہ ہوا تھا وہ کسی ایجنٹ کے ذریعے نہیں خریدے گئے تھے اور نہ ہی انہیں وزارت مواصلات نے لائسنس دیا تھا۔ لائسنسنگ سکیورٹی سروسز کی منظوری حاصل کرنے کے بعد کی جاتی ہے"۔

جاپانی کمپنی کی تحقیقات

دوسری جانب وائرلیس کمیونیکیشن کے آلات بنانے والی جاپانی کمپنی Icom نے لبنان میں اپنی ڈیوائسز کے دھماکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم لبنان میں کمپنی کے لوگو والے مواصلاتی آلات کے پھٹنے کی رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں"۔

ٹوکیو سٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی نے مزید کہا کہ "ہم اپڈیٹ شدہ معلومات کو اپنی ویب سائٹ پر ہی شائع کریں گے"۔

اس کے علاوہ جب اسے لبنان میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں پوچھا گیا تو جاپان کے چیف کیبنٹ سیکرٹری نے کہا کہ وہ ICOM کی واکی ٹاکیز کے حوالے سے رپورٹس سے آگاہ ہیں اور حکومت معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔

’جعلی ڈیوائسز‘

قابل ذکر ہے کہ جاپانی ریڈیو مینوفیکچرر ’آئیکوم‘ کے ایک اہلکار نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ لبنان میں پھٹنے والے ریڈیو جعلی پروڈکٹس لگتے ہیں اور یہ ’آئیکوم‘ کی طرف سے نہیں بنائے گئے تھے۔

’آئیکوم‘ امریکہ میں ریڈیو ڈویژن کے سیلز مینیجر رے نوواک نے بدھ کو ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ

"میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ڈیوائسز ہماری مصنوعات نہیں ہیں‘‘۔

نوواک نے یہ وضاحت کی کہ Icom نے دو طرفہ ریڈیوز کا V82 ماڈل دو دہائیوں سے زیادہ پہلے متعارف کرایا تھا اور اس کی پروڈکشن طویل عرصے سے بند کر دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں