نویں اقرا کمپیٹیشن کے موقع پر حاضری غیرمعمولی سطح کو چھوتی ہوئی 16000 تک پہنچ گئی۔ یہ مقابلہ شاہ عبدالعزیز پلیٹ فارم کی طرف سے ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ جس میں غیرمعمولی اور بڑے نامور ادیب و شخصیات شامل ہوتی ہیں۔
رواں برس بھی لوگوں کی غیرمعمولی شرکت و دلچسپی کے ساتھ یہ ہفتے کے روز اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
تقریب میں 'آرامکو' کے صدر اور سی ای او امین نصیر سمیت کئی سینیئر حکام نے بھی شرکت کی۔ دو روزہ تقریبات کا اہتمام سعودی عرب کے شہر دہران میں کیا گیا تھا۔
عبدالرزاق گرنہ اور اولگا توکارزوک بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ حاضرین کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ تقریب کے اختتام پر فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔
مراکش سے تعلق رکھنے والی مریم کو سال کی بہترین ریڈر کا انعام دیا گیا ۔ جبکہ 10 سالہ فاطمہ کتانی کو پڑھنے کے وعدے پر انعام دیا گیا۔ 'ٹیکسٹ آف دی ایئر' کا انعام عراقی حرا کرخی نے حاصل کیا۔ نیز 'ریڈنگ سکول' کا انعام حفر الباطن اور تربیات العجیل نے حاصل کیا ہے۔
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی صفیہ الغباری پیپلز ریڈر کیتیکگری میں انعام حاصل کیا اور نجلا غازہ السحیمی ریڈنگ ایمبیسڈر پرائز کی حقدار ٹھہریں۔
ڈائریکٹر نورا الزمل نے بتایا کہ اقرا کو 225000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں اور 48000 گھنٹوں پر مشتمل تعلیمی پروگرامنگ کی پیشکش کی گئی۔ اس میں 30 ممالک سے تعلق رکھنے ولاے 600 سے زائد مقررین کو شامل کیا گیا ۔ جن میں تین نوبل انعام یافتہ مصنفین بھی شامل ہیں۔
تقریب کے اختتامی سیشن میں مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے توکارزوک نے کہا 'میں 'چیٹ جی پی ٹی' ایسے جدید ترین ٹولز کا قائل ہوں لیکن ان کے ممکنہ غلط استعمال کے بارے میں فکر مند ہوں۔'