اسرائیل کی جوابی کارروائی کی 'پوری ذمہ داری' امریکہ پر عائد ہوگی: ایران

اقوامِ متحدہ کے سربراہ اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط میں بائیڈن کے تبصرے اشتعال انگیز ہیں: ایروانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بات کا اشارہ دینے کے بعد کہ وہ ایران پر حملے کے اسرائیلی منصوبوں سے آگاہ ہیں، ایران نے پیر کو خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پر جوابی حملے کی صورت میں امریکہ پر "مکمل ذمہ داری" عائد ہو گی۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریس اور سلامتی کونسل کے سوئس صدر کو لکھے گئے خط میں جو بائیڈن نے جو تبصرے کیے، اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے انہیں "انتہائی تشویشناک اور اشتعال انگیز" قرار دیا۔

جب جمعہ کو ایک نامہ نگار نے پوچھا کہ کیا امریکی صدر کو "ابھی بخوبی اندازہ ہے" کہ اسرائیل یکم اکتوبر کو ایران کے میزائل حملے کا کیسے اور کب جواب دے گا تو صدر بائیڈن نے "ہاں اور ہاں" میں جواب دیا۔

یاد رہے کہ ایران نے تہران کی حمایت یافتہ حماس اور حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور اسلامی انقلابی سپاہ کے ایک جنرل کی ہلاکت کے بدلے میں اسرائیل پر تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں امریکہ کے اتحادی اسرائیل نے ایران سے ان حملوں کا انتقام لینے کا عزم کیا۔

ایروانی نے خط میں لکھا، "[بائیڈن کا] یہ اشتعال انگیز بیان گہری تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ ایران کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی فوجی جارحیت کے لیے امریکہ کی خاموش منظوری اور واضح حمایت کی نشاندہی کرتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "اس لیے امریکہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کسی بھی جارحیت کو اکسانے، اشتعال دلانے اور اسے فعال کرنے میں اپنے کردار کی مکمل ذمہ داری لے گا۔"

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بائیڈن کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے فوجی مقامات پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جوہری یا تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں