لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے عندیہ دیا ہے کہ حزب اللہ جنگ بندی معاہدے پر عمل کے لیے لبنانی فوج کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز سے شروع ہوئی جنگ بندی کے بعد جمعہ کے روز اپنے پہلے ویڈیو خطاب کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ان کی تحریک نے اپنا سر اونچا رکھتے ہوئے معاہدے سے اتفاق کیا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ جنگی فضا ایک سال سے زائد عرصے پر پھیلی رہی۔ جس کی وجہ سے لبنان میں اسرائیل نے ہزاروں لبنانیوں کو قتل کیا ہے۔ ان کی تعداد 4000 کے قریب ہے۔ جن میں سیکڑوں کی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
نعیم قاسم نے کہا میدان میں سخت مزاحمت کے بعد اس جنگ بندی معاہدے کو حزب اللہ نے منظور کر لیا ہے۔
واضح رہے اس جنگ بندی معاہدے میں کہا گیا ہے ' حزب اللہ جنوبی لبنان کے دریائے لیطانی سے 30 کلومیٹر تک پیچھے ہٹ جائے گی۔ جبکہ اس علاقے میں لبنانی فوج آپریٹ کرے گی۔
نعیم قاسم کے بقول حزب اللہ کا اس معاہدے پر عمل کے لیے لبنانی فوج کے ساتھ اعلی سطح کا رابطہ رہے گا اور باہم ہم آہن۔ دوسری جانب لبنان کی فوج نے اس علاقے میں اپنے دستے بھیج دیے ہیں تاہم لبنانی کابینہ سے مزید تفصیلات کی منظوری کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی فوج کے اس انخلا کے بعد ہی لبنانی فوج کردار ادا کر سکے گی۔
یہ معاہدہ لبنان سے اسرائیل کے انخلا کی شرط کی وجہ سے پیچیدہ رہا ، اسرائیل کو اس مقصد کے لیے ساٹھ دن کی مہلت دی گئی ہے کہ اسرائیل اپنا انخلا مکمل کرے۔ لیکن اسرائیل نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنانی شہریوں کو اپنے علاقے میں واپس آنے سے جبراً روک رکھا ہے اور ان پر فائرنگ بھی کر رہی ہے۔
اسرائیل کی اس فائرنگ کو لبنان کی فوج اور حزب اللہ دونوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کہا جا رہا ہے۔ نعیم قاسم نے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف 2006 کی جنگ سے بھی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ جو لوگ حزب اللہ کے بارے میں خیال رکھتے ہیں کہ حزب اللہ کمزور ہو جائے گی وہ ناکام ہو گئے ہیں۔