جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی کے بعد گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی سانحات نے شامیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران خوفناک سیلز سے جاری ہونے والا ہر نام سلاخوں کے پیچھے برسوں کے دوران ہونے والی ہولناکیوں کو بیان کر رہا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر شامی گفتگو میں سرفہرست رہنے والے ناموں میں سے ایک سابق شامی پائلٹ راگید التاری بھی ہیں۔ انہوں نے 43 سال سے زیادہ جیل میں رہنے کے بعد آزادی حاصل کی ہے۔
شامی میڈیا کے مطابق اس پائلٹ کو 1982 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک نوجوان تھا۔ اس کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ اس نے حماۃ پر بمباری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ چند روز قبل انہیں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کے مغرب میں واقع طرطوس جیل سے رہا کرا لیا گیا۔ ویڈیو کلپس میں دیکھا جا رہا ہے کہ ستر سالہ راگید التاری اپنے باقی خاندانوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے لیے واپس آئے ہیں۔
ھیئہ تحریر الشام اور اس کے اتحادی گروپوں کو "ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ "ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ" نے دمشق کے دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ حلب، حماۃ، حمص اور دیگر میں جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں اور نظربندوں کو رہا کردیا ہے۔