حماس نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں اسرائیل کی جانب سے تاخیر کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو ع نے ایک بیان میں کہا کہ "مقررہ تاریخ پر قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں قیدیوں کی ساتویں کھیپ کو رہا کرنے میں قابض کی ناکامی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر "تاخیر اور تعطل کے ذمہ دار ہیں‘۔
قبل ازیں سرکاری اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا تھا کہ اسرائیل نے تبادلے کے معاہدے کی ساتویں کھیپ کے حصے کے طور پر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کے حوالے سے سکیورٹی مشاورت کے اختتام تک ملتوی کر دیا ہے۔
نجی اخبار اسرائیل ہیوم نے بھی اسرائیلی جیل سروس کے حوالے سے بتایا کہ سیاسی قیادت نے ابھی تک موجودہ معاہدے میں زیر حراست فلسطینیوں کو رہا کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں۔
تبادلے کے معاہدے کے ساتویں بیچ ک میں حماس نے ہفتے کی صبح چھ زندہ قیدی اسرائیلیوں کے حوالے کیے جب کہ اس نے جمعرات کو 4 دیگر قیدیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی تھیں۔
وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے ان کی رہائی میں تاخیر کے حکم کے بعد فلسطینیوں نے ہفتے کی رات دیر گئے ان رشتہ داروں کی آمد کا انتظار کیا جنہیں غزہ میں یرغمالیوں کے تبادلے کے تازہ ترین دور میں اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جانا تھا۔