اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری فوجی آپریشن کے دوران تین فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ جبکہ فلسطینی ذرائع کے مطابق ان قتل کیے گئے فلسطینیوں میں ایک فلسطینی خاتون بھی شامل ہے۔
یہ واقعات اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران قبطیہ اور جنین میں پیش آئے۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا مختلف جگہوں پر مسلح فلسطینیوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا۔ جنہوں نے خود کو ایک گھر کے اندر رکاوٹوں سے محصور کر رکھا تھا۔
فوجی بیان کے مطابق فلسطینیوں اور فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔ جبکہ تیسرا فلسطینی جنگجو ایک اور واقعے میں جنین میں قتل کیا گیا۔ اسی طرح دوسرے 10 فلسطینیوں کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔
رام اللہ میں قائم فلسطینی وزرت صحت کے مطابق اسے اسرائیلی حکام نے 2 فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ جنہیں منگل کی صبح اسرائیلی فوج نے شہید کیا تھا۔
وزارت صحت کے مطابق 58 سالہ فلسطینی خاتون فائزہ ابراہیم ابوغالب کو بھی اسرائیلی قابض فوج نے جنین کے علاقے میں شہید کیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اس خاتون کی شہادت کے سلسلے میں اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس بارے میں ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 32 سالہ احمد فتحی احمد صالح کو پیر کے روز اسرائیلی فوج نے جنین میں قتل کیا تھا۔ جبکہ ایک اور واقعہ میں رات کے وقت جنین میں ایک اور فلسطینی کو قتل کیا گیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان میجر جنرل انور رجب کے مطابق یہ دوسرا شہری مطلوب تھا اور کئی جگہوں پر سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کر چکا تھا۔
یاد رہے فلسطینی اتھارٹی کی فورسز نے بھی مغربی کنارے میں ماہ دسمبر میں فلسطینیوں کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا تھا۔ جس میں متعدد کو گرفتار کیا گیا اور کئی ہلاک کیے گئے۔
واضح رہے مغربی کنارے میں 7 اکتوبر سے لے کر جنگ بندی تک کے دنوں میں اسرائیلی فوج نے 910 فلسطینیوں کو شہید کیا۔ جبکہ 32 اسرائیلی بھی اس دوران مارے گئے ہیں۔