شامی وزارت داخلہ کا حمص میں دہشت گرد حملوں کے لیے تیار دھماکا خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اس کی باقیات کے خلاف جاری فوجی اور سکیورٹی مہم کے ایک حصے کے طور پر شام کی وزارت داخلہ کو حمص میں ہتھیار اور گولہ بارود ملا ہے۔

مشکوک نقل و حرکت کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے سخت حفاظتی آپریشن کے ذریعے حمص کے الوعر محلے میں سابق حکومت کی باقیات کے ایک اڈے پر چھاپہ مارا۔ اس سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی ملا ہے جو علاقے میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا۔

شام کی وزارت داخلہ نے "ایکس" پلیٹ فارم کے ذریعے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ "مشکوک آپریشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد سکیورٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کو ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے گرفتار کیا گیا‘‘۔

پبلک سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے حمص شہر کے الوعر محلے میں سابق حکومت کی باقیات کے ایک ٹھکانے کے خلاف ایک حفاظتی آپریشن کیا، جہاں سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ یہ دھماکہ خیز مواد اس علاقے میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

شام کی عرب خبر رساں ایجنسی سانا نے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی ضبطی کی تصاویر بھی شائع کیں، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ " انہیں خطے میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا تھا"۔

کنوئیں میں بارود کا ذخیرہ

اس ماہ کے شروع میں حمص میں جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کو ایک پرانے کنویں میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ایک ذخیرہ دریافت کیا، جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سابق حکومت کی باقیات سے تعلق رکھتا ہے۔

جنوب مشرقی حمص کے دیہی علاقوں میں ایک سیکورٹی اہلکار مہند سلامہ نے اس وقت العربیہ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ پکڑے گئے ہتھیاروں کا استعمال عام طور پر انفرادی جنگی گروپوں کو مسلح کرنے کے لیے کیا جاتا تھا، جس سے علاقے میں ایک سازش کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضبط کیے گئے ہتھیاروں کو قبضے سے ایک دن پہلے کسی اور مقام پر لے جانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

سابق حکومت کی باقیات کو ہتھیار ڈالنے کا حکم

شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے سابق حکومت کی باقیات سے کہا تھا کہ وہ جلد از جلد خود کو حکام کے حوالے کردیں اور اپنے پاس موجود ہر طرح کے ہتھیار اور گولہ بارود حکومت کے حوالے کردیں۔

انہوں نے کہا کہ ان باقیات نے نئے شام کو آزمانا چاہا، جس سے وہ لاعلم ہیں۔ وہ اس ماہ کے شروع میں شام کے ساحل پر عوامی سکیورٹی فورسز کے خلاف اسد حکومت سے وابستہ فورسز کے حملوں کا حوالہ دے رہے تھے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

الشرع نے شامی فوج اور سکیورٹی فورسز سے شہریوں کی حفاظت کرنے اور کسی کو بھی زیادہ رد عمل یا مبالغہ آرائی سے روکنے پر زور دیا۔

انہوں نے سابق حکومت کی باقیات کا تعاقب جاری رکھنے،ا نہیں عدالت میں پیش کرنے ہتھیاروں کو ریاست کی تحویل میں دینے کا عزم کیا تھا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ جو بھی نہتے شہریوں پر حملہ کرے گا اس کا احتساب کیا جائے گا۔ شام کے ساحل کے لوگ ریاست کی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاست شہری امن کی ضامن رہے گی اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں