تہران کو ملک کے اندر یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہ دینے کے امریکی اشاروں کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری حق کا دفاع کرے گا اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے اتوار کو تہران ڈائیلاگ فورم میں ایک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے مطابق ہمیں صحت، زراعت، صنعت اور دیگر اہم شعبوں سمیت متعدد مقاصد کے لیے پرامن جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہ ہمارا مذہبی عقیدہ ایسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیتا جس سے انسانیت کو فنا کیا جا سے اور زمین کے مستقبل کے لیے وحشت اور تباہی کے سوا کچھ باقی نہ بچے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگانے پر اصرار بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنا چاہیے۔ انہیں تحقیق کرنے دیجیے ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ ہم جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور نہ ہی ہم اس پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم تہران کسی بھی قسم کے جبر کو قبول نہیں کرے گا اور ایران کے عوام اور پورے خطے کے عوام کبھی بھی طاقت یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ یاد رہے دو روز قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر مذاکرات کسی نئے جوہری معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں تو ایران کے خلاف فوجی آپشن کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔