اسرائیل غزہ میں بین الاقوامی صحافیوں کو جانے کی اجازت دے: برطانوی صحافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

معروف برطانوی صحافی پئیرز مورگن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت دے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار عرب میڈیا سمٹ کے موقع پر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا میڈیا کو یہ بات کمزور کرنے والی ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے صحافیوں کو غزہ میں جانے سے روکنے کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ غزہ کے حالات کو آزادانہ کوریج اور رپورٹنگ سے روک سکتا ہے۔ جبکہ اسرائیلی حکومت غزہ کے بارے میں درست اطلاعات سامنے نہیں لا رہی ۔

برطانوی صحافی نے کہا غزہ سے حقائق کو سامنے لانا اور رپورٹ کرنا بہت مشکل ہے کہ اسرائیل ان صحافتی کارکنوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روکتا ہے اور غزہ جانے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

پئیرز مورگن نے کہا پہلے آزادانہ کام کرنے والے بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور بعد ازاں یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسرائیل غزہ کے بارے میں جو کچھ کہہ رہا ہے وہ درست یا غلط ہے۔

یاد رہے مورگان نے 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد مصر کے کامیڈین باسم یوسف کا انٹرویو کیا تھا۔

انہوں نے کہا اس انٹرویو کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ فلسطین کی 75 سالہ تاریخ کیا ہے۔ مجھے عرب دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ میں اسرائیل کا حامی ہوں۔ حالانکہ میں فلسطینی کے حامی مہمانوں کو زیادہ تعداد میں بلاتا رہا ہوں۔ میں ایسا جان بوجھ کر کرتا رہا ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر 7 اکتوبر کے حملے کے بعد یہی رائے رکھتا تھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔ لیکن باسم جمال کے ساتھ انٹرویو کے بعد میں یہ سوچنے لگا کہ اس دفاعی حق کی کوئی حد ہوگی۔

اب میری رائے میں ایک ارتقائی عمل ہوا ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ اسرائیل نے اپنے حق دفاع کے حوالے سے تمام حدیں عبور کر دی ہیں۔ میں اپنے پچھلے مؤقف پر شرمندہ نہیں ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ دونوں فریقوں کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالیں۔

پئیرز مورگن نے مزید کہا 'میرا کام یہ نہیں ہے کہ میں ایک طرف کی سٹوری کی حمایت کروں۔ بطور ایک صحافی میرا کام ہے کہ ہر ایک سے جواب لیا جائے اور سچائی کو سامنا لایا جائے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں