متحدہ عرب امارات نے ایران-اسرائیل جنگ کی طوالت سے خبردار کر دیا
یہ خطے کی ترقی میں حائل ہو رہی ہے: سفارتی مشیر انور قرقاش کی میڈیا سے گفتگو
متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر اہلکار نے ایران-اسرائیل جنگ کو جلد ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازعے نے طوالت اختیار کی تو "مشکل نتائج" کا سامنا ہو گا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ جنگ امیر خلیجی خطے کی ترقی کی راہ میں "حائل ہو رہی ہے"۔
انہوں نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا، "ایک جنگ جتنی طویل ہوتی ہے، اتنی ہی خطرناک ہوتی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی بھی طویل مخاصمت یا جنگ کا نتیجہ بہت مشکل ہو گا۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ امریکی فضائی حملوں سے قبل ایران کو مذاکرات کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے لیکن تہران نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کے درمیان مذاکرات نہیں کرے گا۔
قرقاش نے کہا، "کشیدگی میں کمی انتہائی اہم ہے۔ ہم اب بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان مسائل پر دوبارہ مذاکرات کی طرف جانے کا راستہ موجود ہے۔"
شرقِ اوسط بدستور ان اثرات سے نمٹ رہا ہے جب عراق پر امریکی قیادت میں 2003 کے حملے میں صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا تھا لیکن ملک تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔
موجودہ جنگ کا ایک بڑا خطرہ ایران اور جزیرہ نمائے عرب کے درمیان واقع آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ہے جس کے راستے عالمی تیل کی پیداوار کا پانچویں حصے کی نقل و حمل ہوتی ہے۔
قرقاش نے کہا، "یہ جنگ اس علاقائی ترتیب کے عین برعکس ہے جو خلیجی ممالک بنانا چاہتے ہیں جس کا مقصد خطے کی خوشحالی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ ترقی کی راہ میں حائل ہے، نہ صرف ہم متحدہ عرب امارات کی بلکہ میں کہوں گا کہ اس خطے کی ترقی۔"