عراق اور کردستان کے درمیان تیل کی برآمدات بحال کرنے پر اتفاق

ڈرون حملوں کے بعد کئی اہم تیل تنصیبات بند، بغداد اور اربیل کے درمیان نیا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

عراقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اربیل اور بغداد کے درمیان ایک اہم معاہدے کے بعد کردستان عراق سے خام تیل کی برآمدات کا عمل دو سال سے زائد کے تعطل کے بعد بحال کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالیہ دنوں میں ڈرون حملوں کے باعث علاقے کی تیل تنصیبات نشانہ بنی ہیں۔

معاہدے کے تحت کرد حکومت فوری طور پر اپنے تمام تیل کے ذخائر سے حاصل ہونے والا خام تیل عراقی سرکاری ادارے ’سومو‘ کے حوالے کرے گی، تاکہ وہ اسے برآمد کر سکے۔ اس حوالے سے فریقین کے درمیان طے پایا ہے کہ یومیہ کم از کم 2 لاکھ 30 ہزار بیرل تیل فراہم کیا جائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی " اے ایف پی " کے مطابق عراقی وزارت خزانہ کرد حکومت کو ہر بیرل کے عوض 16 ڈالر ادا کرے گی۔

ڈرون حملے، پیداوار میں کمی اور تنصیبات کی بندش

تیسرے روز بھی ڈرون حملوں کے باعث کردستان کے متعدد آئل فیلڈز میں پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں یومیہ 1 لاکھ 40 سے 1 لاکھ 50 ہزار بیرل کی کمی واقع ہوئی۔ کئی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے سبب تیل کی پیداوار مکمل طور پر بند کر دی گئی۔

کردستان کے توانائی حکام کے مطابق علاقے میں یومیہ پیداوار تقریباً 2 لاکھ 85 ہزار بیرل ہے۔ متعدد میدانوں میں شدید نقصانات کے بعد وزارت قدرتی وسائل نے عارضی بندش کی تصدیق کر دی ہے۔

وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے ان حملوں کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ان واقعات کی تکرار تشویش ناک ہے۔

بڑی تیل کمپنیاں بھی متاثر، بین الاقوامی ردعمل

گلف کیسٹون پٹرولیم جو کہ کردستان کے بڑے آئل فیلڈز "شیخان" کی سب سے بڑی دریافت کی مالک ہے، نے بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ملازمین کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں، تاہم کمپنی کے اثاثے محفوظ ہیں۔

گلف کیسٹون کرد حکومت کے ساتھ پیداوار کی تقسیم کے معاہدے کے تحت شیخان میدان میں 80 فیصد آپریشنل حصہ رکھتی ہے، جو اربیل سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

کردستان کی وزارت قدرتی وسائل نے بتایا کہ زاخو انتظامی علاقے اور دهوک کے نواحی اضلاع بشمول طاوکی، بیشخابور، اور عین سفنی کو بدھ کے روز دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون حملوں کا سامنا رہا۔

ناروے کی کمپنی ڈی این او، جو کہ طاوکی اور بیشکابیر میدانوں کی نگران ہے، نے بھی حملوں کے بعد وقتی طور پر پیداوار بند کر دی ہے۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، تاہم انفراسٹرکچر کی جانچ جاری ہے اور پیداوار جلد بحال ہونے کی توقع ہے۔

ان حملوں کے بعد ڈی این او کے حصص کی قدر میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی، جو کہ 25 جون کے بعد بدترین کاروباری دن تھا۔

کردستان کی انسداد دہشت گردی فورس کے مطابق، ان حملوں میں تین مسلح ڈرون استعمال ہوئے، جن سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا، مگر مادی نقصان ہوا ہے۔

دیگر کمپنیاں بھی پیداوار سے دستبردار

بدھ کے روز "ابیکور" گروپ، جو آٹھ تیل کمپنیوں پر مشتمل ہے اور کردستان میں سرگرم عمل ہے نے اعلان کیا کہ ان کے اکثر ارکان نے، چاہے وہ حملوں کا نشانہ بنے یا نہ بنے، احتیاطی طور پر تیل کی پیداوار معطل کر دی ہے۔ گروپ کے مطابق، متاثرہ فیلڈز اور تنصیبات کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی روز امریکی کمپنی ہنٹ آئل کے زیرانتظام "عین سفنی" میدان کو بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ منگل کے روز ایک اور حملے میں سرسنک میدان کو نشانہ بنایا گیا، صرف چند گھنٹے قبل اس کے امریکی منتظمین نے عراقی حکومت کے ساتھ ایک اور میدان کی ترقی سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

پیر کے روز دو ڈرون طیارے اربیل کے قریب خورملہ تیل میدان پر گرے، جن سے پانی کی پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے 14 جولائی سے جاری خطرناک رجحان قرار دیا ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ان حملوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size