غزہ میں جنگ کے شدت اختیار کرنے اور جنگ بندی کے کسی سنجیدہ امکان کے نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل مزید اقتصادی اور تجارتی دباؤ کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دو سال سے جاری لڑائی کے دوران بار بار ریزرو فوجیوں کی طلبی نے کاروباری ماحول کو متاثر کیا ہے۔ ’’ نمرود فاکس ‘‘ ، جو سمارٹ ڈیٹا کمپنی ’’ بگ آئی ڈی ‘‘ کی شریک بانی ہے نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی کے 600 ملازمین میں سے 20 فیصد ۔ جن میں سے ایک چوتھائی اسرائیل میں کام کرتے ہیں ۔ ایک ہی وقت میں فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس صورت حال نے طویل میعاد منصوبوں اور اہم تحقیق و ترقی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
تخمینوں کے مطابق غزہ پر حالیہ فوجی مہم میں تقریباً 1,30,000 ریزرو فوجیوں کو بلایا جائے گا جو اسرائیل کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 3 فیصد بنتے ہیں۔ یہ بات "بلومبرگ" کی ایک رپورٹ جس کا جائزہ ’’ العربیہ بزنس ‘‘ نے لیا میں بتائی گئی۔ 580 ارب ڈالر کی معیشت رکھنے والا اسرائیل گزشتہ دو دہائیوں میں غیر معمولی سست روی کا شکار ہے۔ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں افراط زر کے بعد بھی مجموعی قومی پیداوار کم ہے۔ مالیاتی خسارہ بڑھ گیا ہے اور حکومت کو لڑائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی بانڈ مارکیٹوں سے ریکارڈ سطح پر قرض لینا پڑا ہے۔
’’ بلومبرگ اکنامکس ‘‘ کے اندازوں کے مطابق اسرائیلی معیشت اس وقت جنگ نہ ہونے کی صورت کے مقابلے میں 7 فیصد چھوٹی ہے۔ یہ عالمی مالیاتی بحران جتنی بڑی ضرب کے مترادف ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار جنگ کے طویل ہونے اور اس کے اثرات سے خوفزدہ ہیں۔ خاص طور پر پابندیوں کی دھمکیوں اور سٹاک مارکیٹ کی کمزوری کے باعث خوف بڑھ رہا ہے۔ برآمد کنندگان، خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے، دنیا میں بڑھتی ہوئی تنہائی سے خائف ہیں کیونکہ غزہ کی تباہی کی تصاویر پر عالمی غصہ بڑھ رہا ہے۔
چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں، جو اسرائیل کی افرادی قوت کا تقریباً 60 فیصد روزگار فراہم کرتی ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ افرادی قوت کی شدید کمی ہے۔ چند ملازمین کی غیر حاضری بھی ان کے وجود کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ اسرائیلی سوشل سکیورٹی کے اعداد و شمار کے مطابق وہ 5 فیصد خودکاروباری افراد جو 30 دن سے زیادہ فوجی خدمات کے لیے طلب کیے گئے گزشتہ سال کے آخر تک اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے۔