برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا ہے اور یہ واقعہ برطانیہ کی دہائیوں پر محیط پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا مظہر ہے۔
کیر سٹارمر نے یہ بات اتوار کے روز کہی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا اس فیصلے سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن کی امید ایک بار پھر زندہ ہوگی۔ نیز دو ریاستی حل سامنے آ جائے گا۔
برطانیہ کے علاوہ فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیئم سمیت کئی دیگر ملکوں کے بھی جنرل اسمبلی کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی توقع ہے۔ جیسا کہ وہ بھی پہلے سے یہ اعلان کر چکے ہیں۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ لیمی ڈیوڈ نے بھی 'سکائی نیوز' سے بات کرتے ہوئے کہا ' ہم فلسطینی ریاست کو اس لیے تسلیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ دوریاستی حل کا امکان آگے بڑھے۔ '
غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے لیمی ڈیوڈ نے کہا وزیر اعظم کیر سٹارمر نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ اعلان ماہ جولائی میں کیا تھا اور کہا تھا اگر اسرائیلی ریاست جنگ بندی نہیں کرے گی اور غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک وغیرہ کی ترسیل کو بہتر نہیں کرے گی تو برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔ نیز خبردار کیا تھا کہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق بھی نہیں کیا جائے گا۔
ستارمر: إسرائيل تواصل قصف غزة #قناة_العربية#نشرة_الرابعة pic.twitter.com/MYwMH2pjE2
— العربية (@AlArabiya) September 21, 2025
اس ایک اعلان کے بعد اسرائیل نے ایسا کچھ کرنے کے بجائے کہ جنگ بندی کرتا قطر پر بھی حملہ کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیاں بھی بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اس لیے اب امید بہت کم ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کی طرف بڑھے گا۔
بعدازاں 'بی بی سی' سے بات کرتے ہوئے لیمی ڈیوڈ نے کہا کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت تک انتظار کریں کہ جب صورتحال اچھی ہو چکی ہو اور پھر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔ کیا ہم انہیں کہتے ہیں کہ آپ کو وہ فلسطینی ریاست نہیں مل سکتی جو آپ کا خواب ہے۔
جب ان سے یہ کہا گیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا تو حماس کے لیے ایک اچھی خبر ہوگی تو لیمی ڈیوڈ نے کہا جنگجوؤں اور عام فلسطینیوں میں فرق رکھنا ضروری ہے۔
دورہ برطانیہ میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سٹامر کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ دوسری جانب کیر سٹارمر نے کہا میرا اور صدر ٹرمپ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک روڈ میپ طے کیا جانا چاہیے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ہی برطانیہ ان 140 سے زائد ممالک کا حصہ بن جائے گا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رکھا ہے۔ تاہم برطانیہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا غیر معمولی واقعہ اور بڑی علامت ہوگی کہ برطانیہ وہ ملک ہے جو اسرائیل کا پرانے وقتوں سے اتحادی ہے اور برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے بعد یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک ریاست بنانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
-
آسٹریلیا ’فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست‘ کو تسلیم کرتا ہے: آسٹریلوی وزیرِاعظم کا اعلان
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے اتوار کو کہا ہے کہ "آسٹریلیا باقاعدہ طور ...
بين الاقوامى -
فلسطینی ریاست کے قیام سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ لاحق ہے: نیتن یاہو کا دعویٰ
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے ...
مشرق وسطی -
مغربی ممالک کا فلسطینی ریاست کا اعتراف:جواب میں اسرائیلی وزیرکامغربی کنارے کےالحاق پر زور
جیسا کہ مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے تو اے ایف پی کے مطابق ...
مشرق وسطی