غزہ کے ہسپتالوں میں ایندھن خاتمے کے چند دن باقی

آپریشن کے اوقات کو منظم کرنے کی تکنیکی اور انجینئرنگ کوششیں اب مؤثر نہیں رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں انسانی المیہ مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے، غزہ کی وزارتِ صحت نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ ایندھن ختم ہونے کے باعث چند دنوں میں ہسپتال بند ہو جائیں گے۔

وزارتِ صحت نے آج اپنی فیس بک صفحے پر جاری بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی بچ جانے والے فعال ہسپتالوں میں ایندھن کی کمی کا بحران نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

وزارت نے خبردار کیا: "ممکن ہے آئندہ چند روز میں ہسپتالوں کے انسانی شعبے رک جائیں، جس سے صحت کا بحران مزید بڑھے گا اور مریضوں و زخمیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔"

وزارت کے مطابق، ایندھن کی فراہمی رک جانے کے باعث ہسپتال چلانے کے اوقات کی منصوبہ بندی کے تمام فنی و انجینئرنگ اقدامات اب ناکام ہو چکے ہیں۔

وزارت نے ایک بار پھر تمام متعلقہ اداروں سے فوری اپیل کی ہے کہ ہسپتالوں کے لیے ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ایک ایسی تباہی سے بچا جا سکے جس کے نتائج کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

دوسری جانب غزہ شہر پر اسرائیلی افواج کی شدید بمباری جاری ہے، جب کہ فوجی بکتر بند گاڑیاں جنوبی رِمال محلے، النصر محلے اور الجلاء سٹریٹ کے آخری حصے میں موجود ہیں۔

ادھر غزہ کی طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پیر کی صبح سے اب تک اسرائیلی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں 46 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جن میں 38 کا تعلق غزہ شہر سے ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں 1200 افراد مارے گئے، جب کہ 251 افراد کو غزہ میں قید کر لیا گیا۔

غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق، مسلسل دو سال سے جاری اسرائیلی حملوں میں 65 ہزار سے زائد فلسطینی اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، جن میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھوک و افلاس نے جڑ پکڑ لی ہے، بیشتر عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور غزہ کی بڑی آبادی کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں