سعودی وزارت سرمایہ کاری، سعودی مرکزی بینک اور شام کے مرکزی بینک کے درمیان مشترکہ کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بینک ٹرانسفر کو فعال کرنے کے منصوبے پر پیش رفت ہوئی ہے۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کے ایک بیان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد سرمائے کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، تجارت اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں مدد کرنا اور شام کے مالیاتی نظام پر اعتماد بڑھانا ہے۔
یہ بات سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ سعودی شامی گول میز اجلاس کے دوران سامنے آئی جس میں سرمایہ کاری کے وزیر انجینئر خالد الفالح نے شرکت کی۔ شام کے وزیر برائے اقتصادیات و صنعت ڈاکٹر محمد الشعار، شام کے وزیر خزانہ محمد برنیہ، شام کے وزیر توانائی محمد البشیر، شام کے وزیر مواصلات عبدالسلام ہیکل اور شامی سرمایہ کاری اتھارٹی کے ڈائریکٹر طلال ہلالی نے شرکت کی۔ دونوں ملکوں کے سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود رہے۔
ملاقات میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کی تیزی سے فعالیت کو یقینی بنانے، ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے اگلے مرحلے کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کے معاہدوں کے لیے مناسب فریم ورک اور ٹولز پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں سرمایہ کاری کے وزیر انجینئر خالد الفالح نے کہا کہ سعودی عرب شام کے اقتصادی اور ترقیاتی مستقبل میں ایک فعال شراکت دار بننے کا خواہشمند ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کے معاہدے پر دستخط دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کی راہ میں ایک تاریخی قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے تحفظ اور منصفانہ سلوک کی ضمانت دیتا ہے اور سرمایہ کاری کا ایک مستحکم اور پرکشش ماحول قائم کرتا ہے۔
خالد الفالح نے وضاحت کی کہ سرمایہ کاری کی وزارت، سرمایہ کاری کی مالی معاونت کے فریم ورک کے اندر، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری فنڈز کے قیام کو فعال اور معاونت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ مشترکہ منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جائے گا۔ سعودی سرمایہ کاری کے فنڈز شام میں علاقائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری لانے کے لیے ٹھوس پل کا کام کریں گے۔
اجلاس میں ایک ڈائیلاگ سیشن شامل تھا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور مشترکہ منصوبوں کو فعال کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ریگولیٹری اور قانون سازی کے فریم ورک پر بات چیت کی گئی۔ توانائی، صنعت، مواصلات، زراعت اور مالیات کے شعبوں میں بھی سیکٹرل سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ شام کے وزراء اور سعودی طرف سے بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان متوازی شعبوں کی دو طرفہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔