غزہ کی امداد میں اضافہ کیا جائے گا، قبرص اہم راستہ ہے: ایلچی متحدہ عرب امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات غزہ میں امداد کی ترسیل بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے، یہ بات ایک ایلچی نے جمعہ کے روز کہی اور بتایا ہے کہ زمینی اور فضائی رسائی کے ساتھ ساتھ قبرص سے ایک سمندری راہداری ضروری ہے۔

وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے کہا، پہلے سے معائنہ شدہ امداد کی ترسیل کے لیے مشرقی بحیرۂ روم کے جزیرے سے ایک سمندری راستہ غزہ کے لوگوں کے لیے زندگی کا ایک اہم سہارا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے تباہ شدہ فلسطینی انکلیو کو بڑی مقدار میں امداد کی فراہمی میں قبرص کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

"غزہ میں داخلے کے لیے متعدد مقامات کی موجودگی ناگزیر حد تک اہم ہے،" نسیبہ نے قبرص میں لیماسول کی بندرگاہ پر جمع شدہ امداد کے معائنے کے بعد کہا۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، "جیسے جیسے یہ منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے تو زمینی، ہوائی اور سمندری راستے سے غزہ تک رسائی بہت اہمیت کی حامل رہے گی۔"

منگل کو انسانی ہمدردی کے اداروں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ تک بہت کم امداد پہنچ رہی تھی۔

گذشتہ سال شروع کردہ نام نہاد امالتیا انیشی ایٹو کے تحت قبرص سے تقریباً 22,000 ٹن پہلے سے معائنہ شدہ امداد بھیجی جا چکی ہے۔ اس میں سے کچھ گذشتہ سال امریکہ کے قائم کردہ ایک قلیل المدت عارضی سمندری پشتے کے ذریعے براہِ راست غزہ پہنچی جبکہ دیگر امداد اسرائیل میں اشدود کی بندرگاہ کو روانہ کر دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں