اسرائیل نے اس سال پھر سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

صحافتی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے منگل کے روز کہا کہ اس سال تمام دنیا میں ہلاک شدہ تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار اسرائیل ہے اور غزہ میں اس کی افواج کے ہاتھوں 29 فلسطینی صحافی ہلاک ہوئے۔

پیرس میں قائم میڈیا کی آزادی کی وکالت کرنے والے گروپ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ اس سال عالمی سطح پر ہلاک شدہ صحافیوں کی کل تعداد 67 تک پہنچ گئی جبکہ 2024 میں 66 صحافیوں کا قتل ہوا۔

آر ایس ایف نے دسمبر 2024 سے اب تک 12 ماہ کے دوران ہونے والی اموات کو ایک رپورٹ میں دستاویز بند کیا ہے جس کے مطابق کل اموات کے 43 فیصد حصے کی ذمہ دار اسرائیلی افواج ہیں۔ یہ اعداد و شمار انہیں "صحافیوں کا بدترین دشمن" ثابت کرتے ہیں۔

ان میں مہلک ترین واحد حملہ 25 اگست کو جنوبی غزہ کے ایک ہسپتال پر ہونے والا نام نہاد "دوہرا" حملہ تھا جس میں بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دو معاونین سمیت پانچ صحافی ہلاک ہوئے۔

آر ایس ایف کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 220 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جس سے اسرائیل تمام دنیا میں دو سالوں میں صحافیوں کا سب سے بڑا قاتل بن کر سامنے آیا ہے۔

میڈیا گروپس اور آزادی صحافت کی تنظیموں نے غزہ تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے باوجود غیر ملکی نامہ نگار بدستور غزہ کا سفر کرنے سے قاصر ہیں -- سوائے یہ کہ وہ اسرائیلی فوج کے زیرِ اہتمام سختی سے کنٹرول شدہ حالات میں علاقے کا دورہ کریں۔

آی ایس ایف کی سالانہ رپورٹ میں ایک اور جگہ گروپ نے کہا کہ کل کا 43 فیصد حصہ 2025 میکسیکو میں کم از کم تین سالوں میں مہلک ترین سال تھا جہاں نو صحافی ہلاک ہوئے حالانکہ بائیں بازو کی صدر کلاڈیا شین بام کی جانب سے ان کے تحفظ میں مدد کے وعدے کیے گئے تھے۔

آر ایس ایف کے مطابق رپورٹرز کے لیے دنیا کے دوسرے خطرناک ترین ممالک جنگ زدہ یوکرین (تین صحافی) اور سوڈان (چار صحافی) ہیں۔

گذشتہ سال ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد (66) 2012 میں ہلاک شدہ 142 صحافیوں کی انتہائی تعداد سے بہت کم ہے۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر شامی خانہ جنگی کے دوران ہوئیں اور 2003 کے بعد سے ہر سال اوسطاً تقریباً 80 افراد کی ہلاکت سے کم ہیں۔

آر ایس ایف کی سالانہ رپورٹ میں تمام دنیا میں اپنے کام کے لیے قید کردہ صحافیوں کی تعداد بھی شمار کی گئی ہے جن میں چین (121)، روس (48) اور میانمار (47) سب سے زیادہ جابرانہ ممالک کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یکم دسمبر 2025 تک دنیا کے 47 ممالک میں 503 صحافی زیرِ حراست تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں