قانونی محقق عمر المحمدی نے نیشنل سینٹر فار اینویئرنمنٹل کمپلائنس مانیٹرنگ میں معاصر ماحولیاتی مسائل میں سے ایک پر بحث کی: بیلنس واٹر کی آلودگی اور جہازوں کے ملبے۔ دونوں ایک خاموش خطرہ ہیں، جو سمندری نظام کے توازن کو متاثر کرتے ہیں اور بین الاقوامی تجارت کی روانی میں خلل ڈالتے ہیں، یہ تحقیق مالٹا سے سمندر کی گہرائیوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
سمندری چیلنجز دریافت کرنے کا دروازہ
المحمدی نے اپنی سائنسی سفر کی ابتدا بین الاقوامی سمندری قانون کے ادارے (IMLI) میں بیان کی، جو بین الاقوامی بحری تنظیم سے وابستہ ہے۔ انہوں نے بیلنس واٹر (Ballast Water) کا مطالعہ کیا، یعنی وہ پانی جو جہازوں میں استحکام اور توازن برقرار رکھنے کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔
المحمدي نے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ '' سے بات کرتے ہوئے کہا: مجھے پہلے ہی لمحے سے احساس ہو گیا کہ بیلنس واٹر، اگرچہ جدید بحری نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، غیر ملکی انواع کے سمندری ماحول میں داخلے کے سب سے خطرناک ذرائع میں سے ایک بھی ہے اور اس کے اثرات دہائیوں تک رہ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی معاہدے
المحمدی کی عملی مہارت نے اسے بین الاقوامی معاہدات کے شعبے میں مہارت حاصل کرنے کا موقع دیا،المحمدی کو نیشنل سینٹر فار اینویئرنمنٹل کمپلائنس مانیٹرنگ میں بین الاقوامی معاہدات کے شعبے میں عملی تجربہ حاصل کرنے سے بیلنس واٹر مینجمنٹ کنونشن کی گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا، جو سمندروں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونی آلہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جہازوں میں بیلنس واٹر کے بوجھ سے ایندھن کی کھپت اور اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا: دنیا کی 80 فیصد اشیاء بحری راستوں سے منتقل ہوتی ہیں، اس لیے اس مسئلے میں کوئی بھی خلل عالمی معیشت اور سپلائی چین پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
غیر ملکی انواع کے بارے میں دلچسپی صرف نظریاتی نہیں تھی، بلکہ المحمدی کے لیے یہ ایک ذاتی تجربے سے بھی جڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کے ساتھ کینسر کے علاج کے دوران وقت گزارا، اس دوران انھوں نے سوچا کہ کس طرح انتہائی چھوٹے جاندار پیچیدہ ماحولیاتی نظام میں بڑا خلل ڈال سکتے ہیں۔
المحمدی نے کہا: یہ شعور مجھے غیر ملکی انواع کے خطرات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوا ۔یہ کہ یہ ممالک پر ماحولیاتی اور اقتصادی طور پر بھاری بوجھ ڈال سکتی ہیں۔
ان کے خلا کے شوق نے ان کی سائنسی تجسس کو بڑھایا، جب انہوں نے ناسا کے ماحولیاتی آلودگی کے روک تھام کے پروٹوکولز کا مطالعہ کیا۔
المحمدی نے کہا: سمندروں اور دور دراز سیاروں کے درمیان ایک ربط ہے: یہ کہ چھوٹے جاندار کس طرح مکمل ماحول کو بدل سکتے ہیں۔
بیلنس واٹر سے جہازوں کے ملبے تک
المحمدی کی تحقیق بیلنس واٹر سے جہازوں کے ملبے تک پھیلی،انہوں نے یہ جانا کہ خطرہ صرف خوردبینی جانداروں تک محدود نہیں، بلکہ غرق شدہ جہازوں میں موجود ایندھن، تیل، کیمیکل اشیاء اور بھاری دھاتیں بھی خطرہ پیدا کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملبے کے اثرات صرف ڈوبنے کے لمحے تک محدود نہیں، بلکہ سالوں تک جاری رہ سکتے ہیں، حتیٰ کہ جب جہازوں کو ڈس مینٹل کیا جائے ،اگر مناسب معیارات پر عمل نہ کیا جائے۔
المحمدی نے بین الاقوامی بحری قانون کی عدالت (ITLOS) کے تحت سمندری تنازعات کے پرامن حل کے پروگرام میں شمولیت حاصل کر کے ایک قابل ذکر کامیابی درج کی، جو ایک معزز پروگرام ہے جس میں سالانہ صرف 40 نشستیں دستیاب ہیں اور 171 ممالک اس کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: تیسرا سعودی ہونے کے ناطے اس سرٹیفیکیٹ کو حاصل کرنا، بیرون ملک تحقیق اور مطالعے کے مصروفیات میرے پیشہ ورانہ اور سائنسی سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ المحمدی نے اپنے خاندانی توازن کو برقرار رکھا، مزید کہا: میں نے سلیکیشن کے سال کے دوران چار بار سعودی عرب واپس آنا یقینی بنایا، کیونکہ خاندانی تعاون اصلی ایندھن ہے۔
میدانی تجربہ
المحمدی کا عملی تجربہ نیشنل سینٹر فار اینویئرنمنٹل کمپلائنس مانیٹرنگ میں ان کے قانونی اور اقتصادی نقطہ نظر کو مزید نکھار دیتا ہے، خاص طور پر بحری معاہدات کے حوالے سے۔وہ بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی کمیٹیوں کی نگرانی نے انہیں قانون، پالیسی اور ماحولیات کے درمیان تکمیلی تعلق سمجھنے میں مدد دی، اس سے سعودی موجودگی عالمی فورمز میں مضبوط ہوئی۔
المحمدی کے مطابق سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ بحری حادثات کے وقت فوری اقدامات نہ کیے جانا، بعض جہازوں کی ناقص انشورنس کی وجہ سے متعلقہ اداروں پر لاکھوں ڈالرز کے اخراجات کا بوجھ پڑنا۔
ایک پیغام نہ کہ محض پیشہ
المحمدی اپنے بیان کا اختتام یوں کرتے ہیں:جو کچھ میں نے تعلیمی اور عملی سفر کے دوران سیکھا، وہ مملکت کے بحری ماحول کے تحفظ میں سعودی کردار کو بڑھانے کے لیے میری تحریک بن گیا، یہ کام وژن 2030 کے مطابق ہے۔ سمندری ماحول کی حفاظت کوئی محض پیشہ نہیں، بلکہ ایک پیغام اور ذمہ داری ہے جس کے لیے ایمان اور گہری وابستگی ضروری ہے۔