اردن کی فضائیہ کی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی حملوں میں شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے وسیع حملوں کے بعد اردنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے جنوبی شامی علاقوں میں دہشت گرد تنظیم کے اہداف کے خلاف امریکی حملوں میں شرکت کی ہے۔

اردنی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرے میں کی گئی ہے اور اس کا مقصد شدت پسند تنظیموں کو پڑوسی ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے ، شامی سکیورٹی اور پورے خطے کے لیے خطرہ بننے والے حملوں کے آغاز کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ بیان کے مطابق داعش نے جنوبی شام میں خود کو از سر نو منظم کیا اور اپنی صلاحیتیں دوبارہ استوار کیں۔

اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے وسطی شام کے مختلف علاقوں میں داعش کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق لڑاکا طیاروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کے ذریعے کارروائیاں کی گئیں اور داعش کے زیر کنٹرول مقامات کے خلاف 100 سے زیادہ اقسام کی انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

ادھر امریکی صدر نے بتایا کہ داعش کے خلاف یہ آپریشن گذشتہ ہفتے تدمر میں امریکی فوج کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا گیا۔

اسی دوران شامی وزارت خارجہ نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں تصدیق کی کہ حکومت داعش کے خلاف جدوجہد کے لیے پرعزم ہے اور شامی سرزمین پر اسے کسی قسم کے محفوظ ٹھکانے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکام ان تمام علاقوں میں جہاں تنظیم خطرہ بن رہی ہے اس کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید تیز کریں گے۔

یاد رہے کہ دمشق نے گذشتہ ماہ شامی صدر احمد الشرع کے واشنگٹن کے دورے کے دوران داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں باضابطہ شمولیت اختیار کی تھی.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں