یمنی عوام کے مفادات کی خدمت اور ان کی امنگوں کی تکمیل میں سعودی کردار سراہتے ہیں: امارات

امارات نے اعادہ کیا کہ وہ ان تمام کوششوں کی حمایت کے لیے پُر عزم ہے جو یمن میں استحکام اور ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہوں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

متحدہ عرب امارات نے یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی "وام" کے مطابق اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "متحدہ عرب امارات برادر ملک سعودی عرب کی ان برادرانہ کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے جو جمہوریہ یمن میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے کی جا رہی ہیں اور امارات یمنی عوام کے مفادات کی خدمت اور استحکام و خوش حالی کے لیے ان کی جائز امنگوں کی تکمیل میں سعودی عرب کے کردار کو سراہتا ہے"۔

متحدہ عرب امارات نے یمن میں استحکام اور ترقی کے فروغ میں مدد گار ہر اقدام کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا، جس کے مثبت اثرات خطے کی سلامتی اور خوش حالی پر مرتب ہوں گے۔

اس سے قبل یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے جمعرات کو یمنی عوام کے ساتھ سعودی عرب کے ثابت قدم موقف کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا "ہم یمن میں کشیدگی کم کرنے اور ریاست کی قانونی حیثیت کے تحفظ کے لیے سعودی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری اور یمنیوں کی امنگوں کی تکمیل کے لیے صفوں میں اتحاد کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں"۔

قبل ازیں یمنی حکومت نے حضرموت اور المہرہ صوبوں میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے جمعرات کو سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔ حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور شراکت داری و ذمہ داری کے جذبے کے تحت حالات کو معمول پر لانے کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو سراہا۔

یمنی حکومت نے سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں حضرموت اور المہرہ کی صورتحال پر واضح اور ذمہ دارانہ موقف اور کشیدگی کو روکنے، یمنی عوام کے مفادات کے تحفظ اور مشرقی صوبوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مملکت کی انتھک کوششوں کا تذکرہ کیا۔

حکومت نے سعودی عرب کی قیادت میں جاری کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مفادِ عامہ کو ترجیح دی جائے گی، ضبطِ نفس سے کام لیا جائے گا اور کشیدگی کا فوری خاتمہ کیا جائے گا تاکہ معاشرتی امن و سکون بحال ہو اور دہشت گرد حوثی ملیشیا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف وجودی جنگ میں قومی اتحاد کا تحفظ کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں