لبنانی سرزمین پر سابق شامی حکومت سے وابستہ افسران اور اہلکاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں بڑھتی ہوئی خبروں اور افواہوں کے درمیان نائب وزیراعظم نے ایک انتباہ جاری کیا ہے جسے کئی لبنانیوں نے متنازع قرار دیا ہے۔
متری نے جمعہ کو اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میڈیا اور عوام میں لبنان میں سابق شامی حکومت کے حامیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں جو کچھ گردش کر رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی سکیورٹی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان خبروں کی سچائی کی تصدیق کریں اور مناسب اقدامات کریں، یہ ان کا فرض ہے، اور ہم سب پر واجب ہے کہ ہم ایسی کسی بھی کارروائی کے خطرات کو روکیں جو شام کی وحدت کو نقصان پہنچائے یا اس کی سلامتی و استحکام کو خطرے میں ڈالے چاہے وہ لبنان کے اندر ہو یا یہاں سے شروع ہو۔
سوالات کی بوچھاڑ
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی خودمختاری کے احترام اور باہمی مفاد کی بنیاد پر شامی حکام کے ساتھ مزید تعاون کیا جائے۔ تاہم لبنانی وزیر کے انتباہ نے سوالات کی ایک لہر پیدا کر دی ہے کیونکہ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ وزیر کو ’’ ایکس ‘‘ پر انتباہ دینے کے بجائے حکومت سے براہِ راست کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ایسا لگتا ہے وزیر بھول گئے ہیں کہ وہ خود حکومت کا حصہ ہیں، وہ خود حکومت سے تصدیق کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے۔ متری نے ان تبصروں کا جواب دیتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے کابینہ کو اس بارے میں مطلع کر دیا ہے۔
دوسری طرف کچھ شامیوں نے لبنانی نائب وزیراعظم کے موقف کی تعریف کی۔ جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ بشار الاسد کے افسران کی موجودگی کی معلومات کئی مہینوں سے سب کے علم میں ہیں لیکن لبنانی حکام نے کوئی حرکت نہیں کی۔ یہ صورتحال ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں اشارہ کیا گیا تھا کہ سابق شامی فضائیہ کے تقریباً 20 پائلٹ لبنان میں موجود ہیں اور وہ "باقیات" میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سابق شامی افسر سہیل الحسن نے شام کی سرحد کے قریب لبنان میں ایک بڑا دفتر تیار کیا ہے تاکہ اسے کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
یاد رہے شامی انٹیلی جنس کے نائب ڈائریکٹر عبدالرحمن الدباغ نے دسمبر 2025 میں بیروت کا دورہ کیا تھا اور لبنانی حکام سے سابق حکومت کے ان افسران کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو لبنان فرار ہو گئے ہیں اور شامیوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق الدباغ نے سکیورٹی افسران کے ہمراہ وسطی بیروت کا دورہ بھی کیا تاکہ انہیں بتایا جا سکے کہ ان میں سے کئی افسران دارالحکومت کے وسط میں واقع ریسٹورنٹ میں دیکھے جاتے ہیں۔