یو این رپورٹ :مقبوضہ مغربی کنارے کےفلسطینیوں کے ساتھ سنگین امتیازی سلوک کااسرائیل ذمہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری امتیازی سلوک اور نسل پرستی پر مبنی نظام جاری رکھنے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے اسرائیل فلسطینیوں پر مسلط کیا ہوا رنگ برنگا اور نسل پرستی پر مبنی نظام ختم کرے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف ایک منظم امتیازی سلوک جاری رکھا ہوا ہے جو حالیہ برسوں میں مزید سنگین ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے حقوق انسانی دفتر کے سربراہ وولکر ترک نے اپنے ایک بیان میں مغربی کنارے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کا منظم طریقے سے سانس روکا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا عام روزمرہ کے معاملات میں بھی فلسطینیوں کے لیے زندگی امتیازی قوانین، پالیسیوں اور طریقوں سے تنگ کر دی گئی ہے۔ کسی فلسطینی نے چائے یا پانی تک رسائل حاصل کرنی ہو، سکول یا ہسپتال تک جانا ہو، دوستوں یا رشتہ داروں سے ملنا ہو یا زیتون کے اپنے باغات میں جانا ہو ان سب معاملات میں فلسطینیوں کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے یہ نسلی برتاؤ ان پانچ لاکھ اسرائیلیوں کی طرف سے روا رکھا جا رہا ہے جو مغربی کنارے میں دوسرے ملکوں سے لاکر آباد کیے گئے ہیں۔ جنہیں عام طور پر یہودی آبادکاروں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی تیس لاکھ کی آبادی اس پانچ لاکھ کی آبادی کے ہاتھوں تنگ ہے۔

پچھلے دو برسوں سے زائد عرصے کے دوران جب اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع کی تھی مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے زندگی اور بھی اجیرن ہو چکی ہے۔

اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں نے اس عرصے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے ہیں، سینکڑوں فلسطینی زخمی اور گرفتار کیے گئے ہیں۔ جبکہ سینکڑوں مکان اور جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں۔

جب سے غزہ جنگ شروع ہوئی ہے فلسطینی شہریوں کو مغربی کنارے میں بھی ایک مسلسل سزا دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر قانونی طاقت کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کو جیلوں میں بند کرنے اور تشدد کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اپنی رپورٹ میں ان سارے حوالوں سے تفصیل پیش کی ہے۔ معاشرے میں جبر بڑھ چکا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف ناواجب اور ناجائز پابندیاں عائد ہیں۔ حتیٰ کہ میڈیا بھی آزادی سے مغربی کنارے میں کام نہیں کر سکتا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ انتہائی خراب ہے۔

رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیاں بسانے کے معاملے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بہت تیزی سے یہ بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان بستیوں کا بسایا جانا ناجائز ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینیوں کی غیر قانونی ہلاکت کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

30 سمتبر 2017 سے اب تک 1500 فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم صرف 112 واقعات کے بارے میں اسرائیلی حکام نے تحقیقات شروع کیں۔ مگر محض کسی ایک واقعے میں کسی اسرائیلی کو سزا دی جا سکی ہے۔

ہزاروں فلسطینی جیلوں میں بغیر مقدمے کے انتظامی نظر بندی کی وجہ سے بند کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس امر کے لیے ٹھوس دلائل موجود ہیں کہ یہ کہا جا سکے کہ لوگوں کو تقسیم کرنا اور ان کو محکوم بنانے کی تسلسل سے پالیسی جاری ہے۔ تاکہ فلسطینیوں پر جبر اور اسرائیلی غلبے کو مسلط رکھا جا سکے۔

یہ بین الاقوامی قانون اور نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے جو نسلی بنیادوں پر لوگوں کو الگ کرنے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کو روکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے بدھ کے روزز قبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری امتیازی سلوک اور نسل پرستی پر مبنی نظام جاری رکھنے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے اسرائیل فلسطینیوں پر مسلط کیا ہوا رنگ برنگا اور نسل پرستی پر مبنی نظام ختم کرے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی طرف سے اپنی تازہ رپورٹ میں مطالبہ کیا کہ اسرائیل ان غیر قانونی کارروائیوں کو روکے اور ناجائز آباد کی گئی بستیوں کا خاتمہ کرے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق سمیت حق خودارادیت کا بھی احترام کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں