بیروت میں آج ہفتے کے روز زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے لبنانی دارالحکومت میں "حزب اللہ کے انفراسٹرکچر" کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
فرانس پریس کے نامہ نگار نے بتایا کہ آدھے گھنٹے کے دوران کم از کم دو دھماکے سنے گئے، جن میں سے ایک کے بعد دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔ اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ اس نے "بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے"۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر دو فضائی حملے کیے گئے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ شروع ہوئے ایک ماہ مکمل ہونے پر جمعہ کو بھی بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر بم باری کی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج نے انخلا کی وارننگ جاری کرنے کے چند گھنٹے بعد انفراسٹرکچر پر حملوں کی تصدیق کی، جبکہ 2 مارچ سے شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث ضاحیہ کی اکثریت آبادی پہلے ہی نقل مکانی کر چکی ہے۔
جمعے کے روز اسرائیلی فوج نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے مشرقی لبنان کے علاقے مغربی بقاع میں دریائے لیطانی پر واقع اس پل کو بھی نشانہ بنایا جو سحمر اور مشغرہ کے قصبوں کو ملاتا ہے، تاہم یہ پل مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے الزام لگایا کہ حزب اللہ ان پلوں کو فوجی مقاصد اور جنوبی لبنان میں اپنے ارکان کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جمعہ کو الگ الگ بیانات میں بتایا کہ اس نے المطلہ، کریات شمونہ اور مرغلیوت کی بستیوں کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹر پر راکٹ حملے کیے ہیں۔
واضح رہے کہ حزب اللہ 2 مارچ سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، جو 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اسرائیل ان حملوں کا جواب جنوبی ضاحیہ اور لبنان کے دیگر حصوں میں فضائی کارروائیوں اور زمینی مداخلت کے ذریعے دے رہا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1368 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 4138 تک پہنچ چکی ہے۔