لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کی شب اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے فوج کو حزب اللہ کے اہداف پر بھرپور طاقت سے حملہ کرنے کی ہدایت کے بعد سامنے آئی ہے۔
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کم از کم 4 دیہاتوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں ان عمارتوں کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے جنہیں حزب اللہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ فوج نے تصدیق کی کہ وہ سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق خطرات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔
حزب اللہ کے اہداف پر بھرپور حملہ
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر بھرپور طاقت سے حملہ کرنے کا حکم دیا اور دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاھو نے یہ حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کے اعلان کے دو روز بعد دیا ہے۔
مشتبہ فضائی ہدف کو مار گرایا
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے لبنان کی جانب سے اسرائیل کی طرف آنے والے ایک مشتبہ فضائی ہدف کو مار گرایا ہے اور اسے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
اسرائیلی فوج نے ایک دوسرے بیان میں مزید کہا کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں تعینات ان کی افواج پر بارود سے لیس ڈرون داغے ہیں اور ان کی فوج نے حزب اللہ کے ایک گودام سے بکتر شکن میزائلوں کا ذخیرہ برآمد کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے حزب اللہ کے تین ارکان کو نشانہ بنایا جو بارود سے لیس ایک پک اپ گاڑی میں سوار تھے جبکہ جنوبی لبنان میں ایک موٹر سائیکل سوار کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
6 افراد جاں بحق
ادھر لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ہفتہ کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔
وزارت نے اپنے پہلے بیان میں بتایا کہ نبطیہ کے علاقے یحمر الشقیف میں ایک ٹرک اور موٹر سائیکل پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 4 شہری جاں بحق ہوئے۔
وزارت نے دوسرے بیان میں مزید کہا کہ بنت جبیل کے علاقے صفد البطیخ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔
ان ہلاکتوں کے بعد جمعہ سے اب تک جنوبی لبنان کے مختلف حصوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔
یہ کارروائی جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود ہوئی ہے جس میں 17 اپریل سنہ 2026ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کی گئی تھی۔ یہ اعلان واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے بعد کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ حالیہ جنگ کا آغاز 2 مارچ سنہ 2026ء کو ہوا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ برسائے تھے۔ یہ ردعمل 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا تھا۔
اس کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر وسیع فضائی بمباری کی مہم چلائی اور اس کی افواج نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں زمینی یلغار کی۔ 17 اپریل سنہ 2026ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی فوج ان علاقوں میں موجود ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سنہ 2026ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2496 افراد جاں بحق اور 7700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل جنوبی لبنان میں فضائی اور توپ خانے سے بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے اپنی افواج کے علاقوں اور دیگر مقامات کے درمیان ایک پیلی لائن قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسرائیل تب سے متعدد دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر عمارتوں کو تباہ کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق دوسری طرف حزب اللہ مسلسل یہ اعلان کر رہی ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے آپریشنز کر رہی ہے یا شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ اور ڈرون داغ رہی ہے۔